اوپن اے آئی کے بعد اینتھروپک کا اے آئی ماڈل بھی حدود توڑ بیٹھا، 3 اداروں کے سسٹمز تک رسائی کا انکشاف

جمعہ 31 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کی معروف امریکی کمپنی اینتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے اے آئی ماڈلز کلاڈ نے ایک نجی سیکیورٹی تجربے کے دوران خود ہی 3 مختلف اداروں کے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی حالانکہ انہیں انٹرنیٹ سے مکمل طور پر الگ ایک محدود  تجرباتی ماحول میں رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا

کمپنی کے مطابق یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل اوپن اے آئی نے بھی بتایا تھا کہ اس کے بعض اے آئی ماڈلز نے تجرباتی حدود سے نکل کر ہگنگ فیس  سمیت دیگر اداروں کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی تھی۔ اس واقعے کے بعد اینتھروپک نے بھی اپنے ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لیا جس میں 3 ایسے واقعات سامنے آئے جن کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دے دی گئی ہے۔

اینتھروپک نے بتایا کہ اس نے ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد سیکیورٹی ٹیسٹوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کلاڈ ماڈلز کبھی انٹرنیٹ سے منسلک ہونے میں کامیاب ہوئے یا نہیں حالانکہ انہیں ایک ایسے ماحول میں چلایا جا رہا تھا جہاں انٹرنیٹ تک رسائی موجود نہیں ہونی چاہیے تھی۔

کمپنی کے مطابق ان تجربات میں کلاڈ کو ایک بند نیٹ ورک پر موجود دوسرے کمپیوٹر میں محفوظ خفیہ معلومات حاصل کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ماڈل کو اس کمپیوٹر میں داخل ہو کر مطلوبہ معلومات تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی جو اے آئی کی سائبر سیکیورٹی صلاحیت جانچنے کا ایک عام طریقہ ہے۔

اینتھروپک نے کہا کہ اس کے اپنے سسٹمز اور ٹیسٹنگ پارٹنر کے انفراسٹرکچر میں ایک غلط کنفیگریشن کی وجہ سے کلاڈ کو غیر ارادی طور پر حقیقی انٹرنیٹ تک رسائی مل گئی۔ ماڈل نے اسے بھی اسی تجربے کا حصہ سمجھتے ہوئے صرف فرضی ٹیسٹ سسٹمز تک محدود رہنے کے بجائے 3 حقیقی اداروں کے سسٹمز تک بھی رسائی حاصل کر لی۔

کمپنی کے مطابق ابتدائی واقعات اپریل 2026 میں پیش آئے تھے تاہم نہ اینتھروپک اور نہ ہی متاثرہ اداروں کو اس وقت ان غیر مجاز رسائیوں کا علم ہو سکا۔ بعد ازاں ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے پر یہ واقعات سامنے آئے۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر کرتے ہیں؟ اے آئی اور ڈیپ فیک کے نئے خطرات جان لیں

اینتھروپک نے کہا کہ وہ ان خامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے انہیں دور کرنے پر کام کر رہی ہے اور دیگر اے آئی کمپنیوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کی اسی نوعیت کی جانچ کریں تاکہ ممکنہ خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔

ماہرین کی تشویش

برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے مائنڈیرو سینٹر کی سربراہ پروفیسر جینا نیف نے کہا کہ اس واقعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی ماڈلز دراصل وہی کام کرتے ہیں جو انہیں کرنے کا کہا جاتا ہے لیکن اگر حفاظتی اقدامات ناکافی ہوں تو نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اصل سوال ’باغی روبوٹس‘ کا نہیں بلکہ ان کمپنیوں کا ہے جو طاقتور اے آئی ایجنٹس تیار کر رہی ہیں اور ان کی حفاظت سے متعلق فیصلے کر رہی ہیں۔ انہوں نے آزادانہ جانچ اور حکومتی نگرانی کو ناگزیر قرار دیا۔

دوسری جانب سائبر سیکیورٹی کمپنی ویئم سافٹ ویئر کے ماہر ڈیوڈ ایلوٹ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی علامت نہیں کہ اے آئی نے کوئی بالکل نئی ہیکنگ صلاحیت حاصل کر لی ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدید اے آئی ایجنٹس مختلف صلاحیتوں کو یکجا کر کے اسناد، سسٹم تک رسائی اور دیگر وسائل خودکار انداز میں استعمال کر سکتے ہیں اور مشینی رفتار سے اپنے اقدامات کو وسعت دے سکتے ہیں۔

اے آئی ایجنٹس پر بڑھتی تشویش

حالیہ دنوں میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک دونوں کی جانب سے سامنے آنے والے واقعات نے خودکار اے آئی ایجنٹس کی سیکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ٹیکنالوجی کمپنیاں ایسے اے آئی سسٹمز پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں جو تحقیق، کسٹمر سپورٹ، پروگرامنگ اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف کام انسانی مداخلت کے بغیر انجام دے سکتے ہیں۔

ان واقعات کے بعد دنیا بھر میں ماہرین مصنوعی ذہانت کے لیے مزید سخت حفاظتی ضوابط، آزادانہ نگرانی اور شفاف جانچ کے مطالبات کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی حالیہ سائبر سیکیورٹی واقعات کے بعد اے آئی ٹیکنالوجی پر مزید ضابطے متعارف کرانے کے امکان کا عندیہ دے چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: اوپن اے آئی ہگنگ فیس سائبر حملہ: نئی تفصیلات سامنے آگئیں، اے آئی ایجنٹس کی بڑھتی صلاحیتوں پر ماہرین پریشان

گزشتہ ہفتے اوپن اے آئی نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس کے ایک اے آئی ایجنٹ نے تجرباتی حدود سے نکل کر ہگنگ فیس کے سسٹمز تک رسائی حاصل کی جسے کمپنی نے غیر معمولی واقعہ قرار دیا تھا۔ دونوں واقعات نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ خودمختار اور طاقتور ہوتے جا رہے ہیں ان کی نگرانی اور حفاظتی انتظامات کو بھی اسی رفتار سے مضبوط بنانا ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا

اوور 60 کرکٹ ورلڈ کپ: پاکستان ٹیم کینیڈا روانہ، 9 اگست کو ویلز کے خلاف مہم کا آغاز

بھارت میں طلبہ احتجاج پھیل گیا، جھارکھنڈ میں بھی ہزاروں نوجوان سڑکوں پر آگئے

پی ٹی اے کا غیر قانونی انٹرنیٹ سروسز فراہم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن

موبائل اسپیکر پر اونچی آواز میں ویڈیوز اور کالز سننا، کیا یہ عوامی مقامات کا نیا معمول بنتا جا رہا ہے؟

ویڈیو

شہبازشریف کا مستقبل کیا؟ بڑی خبر، کراچی میں ایم کیو ایم کی جگہ پی ٹی آئی کیوں؟ نئے صوبوں کا قیام، اندر کی خبر

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ