مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے ہگنگ فیس پر ہونے والے غیرمعمولی سائبر حملے سے متعلق مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ حملے میں ملوث خودمختار اے آئی ماڈلز نے چار مختلف آن لائن اکاؤنٹس اور عوامی طور پر دستیاب سیکیورٹی اسناد کا استعمال کرتے ہوئے اپنے حملے کو آگے بڑھایا۔
یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت نے اپنے رنگ دکھانے شروع کردیے، اوپن اے آئی کا جدید ماڈل بے قابو، سائبر حملہ کردیا
اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اس کے کچھ اے آئی ماڈلز ایک محدود ٹیسٹنگ ماحول سے نکل کر مختلف سیکیورٹی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ بعد ازاں انہوں نے اوپن سورس اے آئی پلیٹ فارم ہگنگ فیس کے سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی۔ کمپنی کے مطابق ماڈلز کا مقصد ایک جانچ کے دوران ایسی معلومات حاصل کرنا تھا جن کی مدد سے وہ ٹیسٹ میں دھوکا دے سکیں، اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ حملے کے دوران اے آئی ماڈلز نے چار مختلف آن لائن اکاؤنٹس استعمال کیے۔ ان میں سے ایک اکاؤنٹ کو حملے کی منصوبہ بندی اور بیرونی رابطے کے لیے، دوسرے کو ڈیٹا محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ باقی دو اکاؤنٹس تک صرف معلومات پڑھنے کی حد تک رسائی حاصل کی گئی اور انہیں ہگنگ فیس کے سسٹم میں دراندازی کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر فار سیکیورٹی اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجی سے وابستہ محقق کولن شیا بلیمائر نے کہا کہ کئی معاملات میں ایسا محسوس ہوا جیسے سسٹمز میں زبردستی دراندازی نہیں کی گئی بلکہ دروازہ پہلے ہی کھلا چھوڑ دیا گیا تھا اور اے آئی نے صرف کمزور سیکیورٹی انتظامات سے فائدہ اٹھایا۔ ان کے مطابق اب ایسے کمزور سسٹمز تلاش کرنا اتنا آسان ہو چکا ہے کہ ایک اے آئی نظام بھی اتفاقاً انہیں ڈھونڈ سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
دوسری جانب ہگنگ فیس نے کہا کہ یہ پہلا موقع تھا جب اسے مکمل طور پر ایک خودمختار اے آئی ایجنٹ کے ذریعے انجام دیا گیا سائبر حملہ دیکھنے کو ملا۔ کمپنی کے مطابق پورا حملہ تقریباً ساڑھے 4 دن میں مکمل ہوا جبکہ اسے روکنے کے لیے چینی کمپنی زیڈ ڈاٹ اے آئی کے اوپن ویٹ اے آئی ماڈل کی مدد لی گئی۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے اکاؤنٹس میں سے ایک ماڈل نامی اے آئی انفراسٹرکچر کمپنی سے تعلق رکھتا تھا۔ کمپنی نے وضاحت کی کہ اس کے ایک صارف نے ایسا ایپلی کیشن تیار کیا تھا جو عوامی طور پر قابل رسائی تھا، جس سے اے آئی ماڈلز کو وہاں تک پہنچنے میں آسانی ہوئی۔ تاہم موڈل نے واضح کیا کہ اس کا اپنا پلیٹ فارم کسی بھی مرحلے پر متاثر نہیں ہوا۔
اوپن اے آئی نے بتایا کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے سائبر سیکیورٹی کمپنی کراؤڈ اسٹرائیک سمیت دیگر بیرونی ماہرین کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ اے آئی ماڈلز نے حملے کے دوران کون کون سے اقدامات کیے۔
مزید پڑھیں: اوپن اے آئی کے تجرباتی ماڈلز خو ہی ہیکر بن گئے، حقیقت کیا ہے؟
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہگنگ فیس پر ہونے والا حملہ پہلا ایسا سیکیورٹی واقعہ ہے جس نے انہیں حقیقی معنوں میں تشویش میں مبتلا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے عارضی طور پر اے آئی ماڈلز کی تربیت کا عمل روک دیا ہے تاکہ اپنے ٹیسٹنگ ماحول کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
سیم آلٹمین کا کہنا تھا کہ ممکن ہے ہمیں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کچھ کم کرنا پڑے تاکہ معاشرہ ان نئی صلاحیتوں کے مطابق خود کو محفوظ بنانے کے لیے وقت حاصل کر سکے۔
اسی روز اوپن اے آئی، اینتھروپک اور دیگر اے آئی کمپنیوں کے ایک ہزار سے زائد ملازمین نے پیسنگ دی فرنٹیئر کے نام سے ایک کھلا خط جاری کیا جس میں امریکی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کو ضرورت پڑنے پر سست کرنے کے لیے مناسب تکنیکی اور انتظامی نظام وضع کرے۔
یہ بھی پڑھیے: اوپن اے آئی کے خودکار اے آئی ایجنٹ کی مبینہ ہیکنگ، کمپنی کو ایک ہفتے بعد علم ہوا
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ جدید اے آئی ایجنٹس اپنے مقررہ مقصد کے حصول کے لیے غیرمتوقع حد تک پیچیدہ اقدامات کر سکتے ہیں جبکہ موجودہ سائبر سیکیورٹی نظام مستقبل کے ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔














