خون کے نئے ٹیسٹ سے الزائمر کا خطرہ 5 سے 10 سال پہلے معلوم کرنا ممکن، تحقیق

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی قیادت میں ہونے والی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ خون کا ایک سادہ ٹیسٹ الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرے کی پیشگی نشاندہی 5 سے 10 سال پہلے کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں بروقت علاج، مریضوں کی نگرانی اور نئی ادویات کی آزمائش میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی سربراہی میں کی گئی نئی تحقیق کے مطابق خون میں موجود ایک مخصوص بایو مارکر p-tau217 کی مقدار جانچ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بظاہر صحت مند بزرگ افراد آئندہ 5 سے 10 سال کے دوران الزائمر یا یادداشت کی خرابی کا شکار ہونے کے کتنے امکانات رکھتے ہیں۔

یہ تحقیق لندن میں ہونے والی الزائمر ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کی گئی، جبکہ اس کے نتائج طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں بھی شائع کیے گئے۔

تحقیق کے دوران تقریباً 2 ہزار 700 ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 70 سال تھی اور جن میں تحقیق کے آغاز پر یادداشت کی کوئی نمایاں خرابی موجود نہیں تھی۔ ان افراد کی صحت کا تقریباً 10 سال تک مشاہدہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اعصابی درد کی دوا ’گیباپینٹن‘ کے دماغی صحت پر مضر اثرات کا انکشاف

تحقیق میں معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں p-tau217 کی سطح زیادہ تھی، ان میں آئندہ 10 برس کے دوران ذہنی صلاحیت متاثر ہونے کا امکان 78 فیصد تک تھا، جبکہ تقریباً ایک تہائی افراد میں یہ مسئلہ 5 سال کے اندر پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ دوسری جانب جن افراد میں اس پروٹین کی مقدار معتدل حد تک زیادہ تھی، ان میں بھی 10 برس کے دوران یادداشت کی خرابی کا خطرہ 45 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق p-tau217 ایک ایسا پروٹین ہے جو دماغ میں نقصاندہ ’ٹاؤ‘ پروٹین کے جمع ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، جو الزائمر اور یادداشت کی کمزوری سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ریچل بکلی کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں ان نتائج کی مزید تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ خون کا ٹیسٹ ایسے افراد کی شناخت میں مدد دے سکتا ہے جنہیں الزائمر سے بچاؤ کی نئی ادویات کے کلینیکل ٹرائلز میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں بیماری کے ابتدائی مرحلے میں علاج دستیاب ہونے کی صورت میں یہ ٹیسٹ مریضوں کی نگرانی، علاج کے فیصلوں اور اہل خانہ کی رہنمائی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

محققین نے واضح کیا کہ صرف p-tau217 کی بنیاد پر کسی فرد کے مستقبل کی مکمل پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ عمر، جینیاتی عوامل، گردوں کی صحت اور نسلی پس منظر جیسے دیگر عوامل بھی الزائمر کے خطرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp