نیویارک میئر ظہران ممدانی فوجی اہلکار کی آخری رسومات میں نظر انداز، شدید برہمی میں گھر واپس لوٹ گئے

ہفتہ 1 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی  کو ایرن جنگ میں ماری جانے والی امریکی فوجی اہلکار کی آخری رسومات کے دوران تقریر کرنے سے روک دیا گیا، جس پر انہوں نے شدید غصے اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے گھر واپسی کی راہ لی۔

تقریب میں پیش آنے والا ناخوشگوار واقعہ

30 جولائی کو کوئنز کے اوزون پارک چرچ میں آرمی سارجنٹ اینجل سارہ رامپرساد کی آخری رسومات ادا کی گئیں، جن میں میئر ظہران ممدانی  نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے دوران گورنر کیتھی ہوچول اور کوئنز کے بورو پریذیڈنٹ ڈونووان رچرڈز سمیت دیگر اہم شخصیات کو تقاریر کے لیے اسٹیج پر بلایا گیا، تاہم تیار شدہ تقریر کے باوجود میئر ممدانی کا نام نہیں پکارا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر نیتن یاہو کی شدید تنقید، آئی سی سی کو کرپٹ اور جھوٹا ادار قرار دے دیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق چوتھی صف میں بیٹھے میئر ممدانی آئی پیڈ پر اپنی تقریر کا جائزہ لے رہے تھے اور جب انہیں اندازہ ہوا کہ انہیں نہیں بلایا جائے گا تو انہوں نے اپنے عملے کی طرف غصے سے دیکھا اور بالاخر اپنا ٹیبلٹ بند کر دیا۔

ظہران ممدانی کے دفتر کی جانب سے بعد میں ان کی تیار کردہ تقریر جاری کر دی گئی جس میں سارجنٹ رامپرساد کی قربانی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔

خاندانی مؤقف اور سیاسی پس منظر

میڈیا کا کہنا ہے کہ سارجنٹ اینجل سارہ رامپرساد کا خاندان قدامت پسند اور ڈونلڈ ٹرمپ کا حامی ہے، جو تقریب میں کسی بھی قسم کے سیاسی انتشار یا خلفشار سے گریز کرنا چاہتا تھا۔

میڈیا کے مطابق ایک اور اندرونی ذریعے کا یہ بھی ماننا ہے کہ میئر ظہران ممدانی کی جارحانہ اور سخت سیاسی پالیسیوں کی وجہ سے انہیں روایتی طور پر ملنے والا میئریل خطاب کا حق نہیں دیا گیا۔

ہلاک ہونے والی فوجی اہلکار

28 سالہ سارجنٹ اینجل سارہ رامپرساد کا تعلق کوئنز کے مقامی خاندان سے تھا۔ انہوں نے جان جے کالج آف کریمنل جسٹس سے گریجویشن کی اور اپنے چچا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کی۔

مزید پڑھیں:نیتن یاہو جنگی مجرم ضرور لیکن قانون گرفتاری کا اختیار نہیں دیتا، ظہران ممدانی مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے

وہ 18 جولائی کو اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر ہونے والے ایک ایرانی میزائل حملے میں ماری گئی تھیں، وہ مارے جانے والے  3 امریکی فوجیوں میں شامل تھیں۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والے دیگر 2 اہلکاروں میں ہوائی کے 25 سالہ فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور ٹیکساس کی ۱۹ سالہ پرائیویٹ ازابیلا گونزس بھی شامل ہیں، جو عراقی اور شامی علاقوں میں داعش کے خلاف بین الاقوامی مہم ’آپریشن انہیرنٹ ریزالو‘ کے تحت اردن میں تعینات تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp