امریکا نے کاروباری اور سیاحتی ویزوں کے لیے ‘ویزا بانڈ پروگرام’ مستقل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت 50 ممالک کے بعض درخواست گزاروں سے ویزا جاری کرنے سے قبل 20,000 ڈالر تک کا سیکیورٹی بانڈ طلب کیا جا سکے گا۔
نئی پالیسی کا مقصد ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیرقانونی قیام کی حوصلہ شکنی کرنا بتایا گیا ہے۔
بی۔1 اور بی۔2 ویزوں پر نئی شرط لاگو ہوگی
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری وفاقی نوٹس کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق بی۔1 (کاروباری) اور بی۔2 (سیاحتی) نان امیگرنٹ ویزوں پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قونصلر افسران کو اختیار ہوگا کہ وہ مخصوص ممالک سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں سے ویزا جاری کرنے کی شرط کے طور پر زیادہ سے زیادہ20,000 ڈالر تک کا بانڈ طلب کریں۔ بانڈ کی رقم ہر درخواست گزار کے حالات اور قونصلر افسر کی صوابدید کے مطابق طے کی جائے گی۔
پائلٹ منصوبے کے بعد مستقل نفاذ
امریکی حکام کے مطابق 2025 میں شروع کیے گئے ویزا بانڈ پائلٹ پروگرام نے متعلقہ اداروں کو اس نظام کی افادیت جانچنے کا موقع فراہم کیا۔
ان کے بقول حاصل ہونے والے نتائج سے ظاہر ہوا کہ بانڈ پروگرام ویزا کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنانے اور اوورسٹے کی روک تھام کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
پائلٹ پروگرام کے دوران 5,000 ڈالر،10,000 ڈالر اور15,000 ڈالر تک کے بانڈ کی گنجائش تھی، تاہم نئے ضابطے میں5,000 ڈالرکا آپشن ختم کر دیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر20,000 ڈالرمقرر کر دی گئی ہے۔
50 ممالک متاثر، اکثریت افریقی ممالک کی
نئے ضابطے کے تحت شامل 50 ممالک میں سے 30 کا تعلق افریقا سے ہے۔ تاہم ہر درخواست گزار پر لازمی طور پر بانڈ لاگو نہیں ہوگا، بلکہ یہ فیصلہ قونصلر افسران درخواست کی نوعیت اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کریں گے۔
مزید پڑھیں:امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ
یہ ضابطہ 3 اگست سے نافذ العمل ہوگا، جب اسے باضابطہ طور پر ‘فیڈرل رجسٹر’ میں شائع کیا جائے گا۔
حکومت اور ناقدین کے مؤقف میں اختلاف
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ایسے افراد کی تعداد کم کرنا ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں غیرقانونی طور پر مقیم رہتے ہیں۔
دوسری جانب امیگریشن اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ بھاری مالی بانڈ کی شرط حقیقی سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے امریکا کا سفر مشکل بنا سکتی ہے، خصوصاً کم آمدنی والے درخواست گزار اس سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
امیگریشن پالیسی پر تنقید
انسانی حقوق کے بعض اداروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں پر بھی تنقید کی ہے۔ ناقدین کے مطابق غیرقانونی امیگریشن کے خلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ قانونی امیگریشن بھی زیادہ پیچیدہ اور مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟
ان کا کہنا ہے کہ نئی فیسوں، سوشل میڈیا جانچ اور اضافی شرائط نے ویزا درخواست گزاروں کے لیے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ ان اقدامات کو قومی سلامتی کے تحفظ اور امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔
امریکا میں ویزا بانڈ کا تصور نیا نہیں، تاہم اسے محدود پیمانے پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ 2025 میں شروع کیے گئے پائلٹ پروگرام کے ذریعے اس نظام کی افادیت کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اب اسے مستقل شکل دے دی گئی ہے۔
نئی پالیسی کو امریکا کی سخت ہوتی امیگریشن حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں میں کمی لانا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے قانونی سفر اور بین الاقوامی روابط متاثر ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔













