سندھ طاس معاہدے کے تحت جاری تنازع میں پاکستان کو ایک اہم قانونی اور طریقہ کار سے متعلق کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ’مستقل ثالثی عدالت‘ کے تازہ اعلامیے کے مطابق بھارت کی عدم شرکت کے باوجود نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی بلا تعطل جاری ہے، جبکہ حتمی فیصلہ 2027 میں متوقع ہے۔
مستقل ثالثی عدالت نے 31 جولائی 2026 کو جاری اپنے اعلامیے میں بتایا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 کے تحت بھارت کے رتلے اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں سے متعلق نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی معمول کے مطابق جاری ہے، حالانکہ بھارت اس عمل میں شرکت نہیں کر رہا۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: بھارت کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں؟
اعلامیے کے مطابق پاکستان نے کارروائی کے دوران اپنے تحریری اور زبانی مؤقف کی اشاعت اور بعض دستاویزات عدالتِ ثالثی کو فراہم کرنے کی درخواستیں دائر کی تھیں۔ نیوٹرل ایکسپرٹ نے دستاویزات عدالتِ ثالثی کو فراہم کرنے کی اجازت دے دی، جبکہ مقدمے کی کارروائی اور دستاویزات کی رازداری برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیوٹرل ایکسپرٹ نے متنازع آبی منصوبوں سے متعلق پاکستان کے تکنیکی اعتراضات کا جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہرین کی مدد سے سائنسی ماڈلنگ کا عمل بھی شروع کر دیا ہے، جس سے تنازع کے تکنیکی پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق نظرثانی شدہ ورک پروگرام کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی مکمل رفتار سے جاری رہے گی اور مقدمے سے متعلق حتمی فیصلہ 2027 میں متوقع ہے۔
اس پیش رفت کو پاکستان کے مؤقف کے لیے ایک اہم طریقہ کار کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت کی عدم شرکت کے باوجود سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم تنازع کے حل کا بین الاقوامی نظام فعال ہے اور کارروائی بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کی جانب سے بین الاقوامی قانون اور سندھ طاس معاہدے کے تحت قانونی عمل میں مسلسل شرکت نے تنازع کے حل کے موجودہ طریقہ کار کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔













