امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پیر کی دوپہر سے شروع ہوں گے، جبکہ انہوں نے ایران پر نئے فوجی حملے کا منصوبہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران پر دوسری عالمی جنگ کے بعد کا سب سے بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی، تاہم مذاکرات کی امید پیدا ہونے پر اس کارروائی کو روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا ایران کشیدگی: کیا سفارت کاری جنگ پر غالب آ سکے گی؟
’واضح ہے کہ ایران حملے سے بچنا چاہتا تھا، انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ کارروائی کی تیاری مکمل ہو رہی ہے۔ اب ہم مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کا آغاز کل دوپہر ہوگا۔‘
امریکی صدر نے مذاکرات کے مقام، شرکا یا ایجنڈے کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
⭕️ President Trump announced that renewed diplomatic negotiations with Iran would begin on Monday afternoon, August 3, 2026, after he shelved what he described as the "biggest attack since World War II".
Speaking to reporters onboard Air Force One, President Trump stated that… pic.twitter.com/fgdiWJGQBs
— Drop Site (@DropSiteNews) August 3, 2026
ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے علاوہ امریکا کے اتحادی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر نے بھی ان سے حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔
’جب اتحادی آپ سے حملہ روکنے کا کہیں تو پھر دیکھنا پڑتا ہے کہ شاید واقعی کسی معاہدے کی گنجائش موجود ہے۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے آبنائے ہرمز کے معاملے پر پیشرفت ہوگی، جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام یا اس کی غیر جوہری حیثیت سے متعلق بھی معاہدہ ممکن ہے۔
علاقائی سفارتکاری میں تیزی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ گفتگو کے دوران مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال، خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور سیاسی حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق تہران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وضاحت کی کہ یہ مذاکرات آبنائے ہرمز میں ایک نئے بحری راستے پر اتفاق کے حوالے سے ہیں اور ان کا آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کے معاملے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
جنگ اور مذاکرات کا پس منظر
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر اچانک حملوں کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد دونوں جانب کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔
اس دوران مختلف اوقات میں سفارتی رابطے بھی جاری رہے، تاہم پہلے طے پانے والی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔
حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ حملوں کے تبادلے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے۔
حملہ مؤخر ہونے پر تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
امریکا کی جانب سے ایران پر نیا حملہ مؤخر کیے جانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 4.08 ڈالر یا 4.64 فیصد کمی کے بعد 83.85 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 4.01 ڈالر یا 4.74 فیصد سستا ہو کر 80.66 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا۔
ماہرین کے مطابق فوجی کشیدگی میں کمی کے امکانات کے باعث خلیجی خطے سے توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کم ہوئے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل منڈی نے مثبت ردعمل دیا۔













