قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بتایا گیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس (آرٹیفیشل سویٹنرز) اور فلیورڈ مشروبات کا زیادہ استعمال کم عمری میں ذیابیطس سمیت مختلف سنگین بیماریوں اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قومی ادارہ صحت (NIH) کی تحقیق کے مطابق مصنوعی مشروبات اور شوگر کے متبادل اجزا کا باقاعدہ استعمال صحت عامہ کے لیے تشویشناک ہے۔
مزید پڑھیں:صرف وزن کم کرنا ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں، ماہرین کا انتباہ
حکام نے کہا کہ بچے، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں اس کے مضر اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، جبکہ ایسے اجزا میٹابولک امراض اور بعض اقسام کے کینسر کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔
قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت اجلاس میں پی ایس کیو سی اے کو ہدایت کی گئی کہ مصنوعی مٹھاس اور فلیورڈ مشروبات کے صحت پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے فوری طور پر تکنیکی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے۔
اجلاس میں وزارت قومی صحت، قومی ادارہ صحت، آم کے کاشتکاروں اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ کمیٹی نے پی ایس کیو سی اے کو دو ماہ کے اندر مصنوعی مٹھاس اور فلیورڈ مشروبات سے متعلق معیار اور ضوابط پر نظرثانی کرنے کی بھی ہدایت کی۔
نئے قواعد کے تحت مصنوعات پر درست اور لازمی لیبلنگ، گمراہ کن دعوؤں کی روک تھام، نمایاں صحت سے متعلق انتباہ، واضح مدتِ استعمال، پھل کے گودے کے تناسب کا تعین اور پلاسٹک بوتلوں کی پیکنگ کے لیے ضوابط شامل کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں:کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی
قومی ادارہ صحت کو ہدایت کی گئی کہ وہ پالیسی سازی کے لیے سائنسی شواہد اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار بھی فراہم کرے۔
اجلاس میں خیرپور میں مجوزہ ڈیٹس ریسرچ سینٹر کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں شامل نہ کیے جانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ وزارت منصوبہ بندی حکام نے بتایا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث وزارت قومی غذائی تحفظ نے صرف 3 نئے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی، جس کے باعث اس منصوبے کو پروگرام میں شامل نہیں کیا جا سکا۔













