امریکا کو جدید میزائلوں کی کمی کا سامنا، نئی جنگ کی صورت میں مشکلات کا خدشہ

بدھ 5 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران کے ساتھ 5 ماہ سے جاری جنگ کے دوران امریکا نے اپنے طویل فاصلے تک درست نشانہ لگانے والے جدید میزائلوں کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے، جس سے مستقبل میں کسی بڑے فوجی بحران سے نمٹنے کی امریکی صلاحیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے خاص طور پر آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم اور پریسیژن اسٹرائیک میزائل بڑی تعداد میں استعمال کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

برطانوی خبررسان ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا ان میزائلوں کا تقریباً تمام عالمی ذخیرہ استعمال کر چکا ہے، یہ میزائل ایک ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ہوتے ہیں اور محفوظ فاصلے سے انتہائی درست حملوں کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان جدید میزائلوں کے ذخائر میں کمی کے باعث اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کرتے ہیں تو انہیں زیادہ خطرناک فضائی بمباری کے مشنز پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کے طویل ہونے سے امریکی اسلحہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا معاہدہ: کیا نیتن یاہو سب سے بڑے سیاسی نقصان اٹھانے والے ثابت ہوں گے؟

وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر صدر ٹرمپ کا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ موجود ہے اور امریکی دفاعی کمپنیاں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہتھیار تیار کر رہی ہیں۔

دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میزائلوں اور دیگر اسلحے کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، لیکن طویل جنگ کی صورت میں یہ رفتار ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ کے دفاعی نظام پیٹریاٹ کے تقریباً 65 فیصد اور تھاڈ انٹرسیپٹرز کے ذخائر میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ ٹوماہاک کروز میزائلوں کا بھی تقریباً نصف ذخیرہ استعمال ہو چکا ہے۔

اگرچہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ذرائع کے مطابق امریکی حکومت کے اندر اس بات پر غور جاری ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیاں مزید کتنے عرصے تک جاری رکھی جا سکتی ہیں، تاکہ دیگر عالمی بحرانوں سے نمٹنے کی فوجی صلاحیت متاثر نہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp