میکسیکو کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور ٹک ٹاکر سیزر گاسٹیلم کو منگل کے روز اس وقت گولی مار کر قتل کر دیا گیا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر لائیو اسٹریمنگ کر رہے تھے۔
مقامی حکام کے مطابق سیزر گاسٹیلم کے ٹک ٹاک پر تقریباً چھ لاکھ فالوورز تھے اور وہ اپنے مزاحیہ ویڈیوز کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے تھے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق لائیو اسٹریمنگ کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہیلمٹ پہنے دو افراد موٹر سائیکل پر سوار ہو کر موقع پر پہنچے، جس کے بعد موٹر سائیکل چلانے والے شخص نے سیزر گاسٹیلم پر قریب سے فائرنگ کر دی۔
ریاست سینالوا کے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیزر گاسٹیلم موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں بڑے پیمانے پر سیکیورٹی آپریشن جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے معروف امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ڈریم ڈول بری‘ قتل
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب سینالوا کے دارالحکومت کولیاکان میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پرتشدد جھڑپیں جاری ہیں، جس کے باعث شہر طویل عرصے سے بدامنی کا شکار ہے۔
سیزر گاسٹیلم کا قتل گزشتہ برس مئی میں پیش آنے والے ایک اور ہائی پروفائل واقعے کی یاد تازہ کرتا ہے، جب 23 سالہ میکسیکن بیوٹی انفلوئنسر ویلیریا مارکیز کو ریاست جالیسکو کے شہر زاپوپان میں اپنے سیلون کے اندر ٹک ٹاک پر لائیو ویڈیو کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔ استغاثہ نے اس مقدمے کی تفتیش خواتین کے خلاف صنفی بنیاد پر قتل (فیمیسائیڈ) کے قوانین کے تحت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں قتل ہونے والی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کون تھیں؟
بعد ازاں جولائی میں میکسیکو کے حکام نے رامون اینجل الواریز آیالا المعروف ایل آر-1کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا، جسے جالیسکو نیو جنریشن کارٹیل (CJNG) سے منسلک ایک مجرمانہ گروہ کا سربراہ قرار دیا گیا۔ حکام کے مطابق اسے ویلیریا مارکیز کے قتل سے بھی جوڑا گیا ہے، جبکہ اس پر 2025 میں یوروآپان کے میئر کارلوس مانزو کے قتل کی منصوبہ بندی اور مالی معاونت کا بھی الزام ہے۔
حالیہ واقعے نے ایک بار پھر میکسیکو میں سوشل میڈیا شخصیات کی سیکیورٹی اور منظم جرائم کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔













