امریکا کی ریاست فلوریڈا میں 21 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈریم ڈول بری (بریننا جانسن) فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ بظاہر ٹارگٹ کلنگ معلوم ہوتا ہے، جبکہ واقعے میں گاڑی میں سوار 2 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ حکام مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
میرامر پولیس کے مطابق بریننا جانسن اپنی گاڑی چلا رہی تھیں کہ ایک دوسری گاڑی نے ان کا راستہ روک لیا۔ اس دوران حملہ آور نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بریننا جانسن کے سر میں گولی لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
حکام کے مطابق گاڑی میں سوار دو دیگر افراد کو شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جبکہ حملہ آور کی تلاش کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتبہ ملزم کی گاڑی کچھ فاصلے تک بریننا جانسن کی گاڑی کا تعاقب کرتی رہی، جس کے بعد فائرنگ کی گئی اور حملہ آور تیزی سے موقع سے فرار ہو گیا۔
میرامر پولیس کے چیف ڈیلریش ماس نے میڈیا کو بتایا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند اور ٹارگیٹیڈ حملہ تھا۔ ان کے بقول پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ حملے کے محرکات کیا تھے اور آیا اس کے پیچھے کوئی ذاتی دشمنی یا دیگر عوامل کارفرما تھے۔
بریننا جانسن کے اہل خانہ کے مطابق واقعے سے ایک رات قبل وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ ایک پارٹی میں شریک ہوئی تھیں۔ واپسی کے دوران ایک گیس اسٹیشن پر مبینہ طور پر کسی سے جھگڑا بھی ہوا تھا۔ تفتیش کار اس امکان کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا فائرنگ کا واقعہ اسی تنازع کا تسلسل تھا، تاہم پولیس نے اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کو بتایا کہ اتوار کے روز علاقے میں متعدد گولیوں کی آوازیں سنی گئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو سیل کر دیا۔
بریننا جانسن، جو ’ڈریم ڈول بری‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر معروف تھیں، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپنی ویڈیوز اور لائف اسٹائل مواد کی وجہ سے خاصی مقبول تھیں اور ان کے لاکھوں فالوورز تھے۔ ان کی اچانک ہلاکت پر سوشل میڈیا پر مداحوں اور دیگر انفلوئنسرز نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔














