امریکا کی کم از کم 12 ریاستوں میں پانی اور گندے پانی کی صفائی کے نظام کو سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران متاثرہ ریاستوں کی تعداد 7 سے بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔ حملہ آوروں نے پانی کی فراہمی کے نظام کو چلانے والے کمپیوٹرائزڈ نظام میں مداخلت کرتے ہوئے پاس ورڈ تبدیل کیے اور حفاظتی الارم کے نظام کو غیر فعال کرنے کی کوشش کی، جس سے متعلقہ اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی مغربی ریاستوں میں شدید گرمی، جنگلاتی آگ کے خطرات میں اضافہ
حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے باوجود اب تک پانی کی فراہمی یا گندے پانی کی صفائی کے نظام میں کوئی بڑا تعطل پیدا نہیں ہوا اور عوامی صحت بھی متاثر نہیں ہوئی۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا حملوں کے پیچھے واقعی ایران سے منسلک عناصر ہیں یا کسی دوسرے گروہ نے ایران کے طرزِ عمل کی نقل کرتے ہوئے جان بوجھ کر صورتحال کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ حملہ ایران نے کیا ہے، تاہم بعض وفاقی حکام اب بھی ایران کو اہم مشتبہ فریق قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سائبر حملے کا خدشہ، ہیکرز نے فیول اسٹوریج ٹینکوں کی ریڈنگ تبدیل کر دیں
ایف بی آئی نے متاثرہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ جہاں ممکن ہو اپنے کنٹرول سسٹمز کو انٹرنیٹ سے منقطع کریں، حفاظتی انتظامات مزید مضبوط بنائیں اور عملے کو خودکار نظام متاثر ہونے کی صورت میں دستی طور پر نظام چلانے کی تربیت دیں۔
ریاست مشی گن بھی متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں ریاستی پولیس وفاقی اداروں اور محکمہ ماحولیات کے ساتھ مل کر صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق تمام آبی نظام معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں اور عوامی صحت کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔














