وزیرستان سے گیس کی کمرشلائزیشن شروع، روزانہ کتنی گیس فروخت کی جائےگی؟

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں ملک کی دوسری بڑی قدرتی گیس پیدا کرنے والی کمپنی ماری انرجیز لمیٹڈ نے وزیرستان بلاک میں واقع اسپن وام گیس فیلڈ سے یومیہ 17.5 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس کی فروخت کے لیے یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے ساتھ معاہدے کے فریم ورک پر دستخط کردیے ہیں۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے اطلاعی نوٹس کے مطابق کمپنی نے 15 مئی 2026 کو شفاف بولی کا عمل شروع کیا تھا، جس کے اختتام پر کامیاب بولی دہندہ کو لیٹر آف ایوارڈ جاری کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان کابینہ کے تاریخی فیصلے، گوادر میں 14 ارب ڈالر کے بڑے گیس ٹرمینل کی منظوری

یہ اقدام 7 جنوری 2025 کے ایس آر او کے تحت لاگو ہونے والے تھرڈ پارٹی گیس سیل فریم ورک کے تحت گیس کے تجارتی استعمال کی طرف اہم قدم ہے۔

معاہدے کی تفصیلات اور شراکت دار

17.5 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ دونوں کمپنیاں فریم ورک کے مطابق ضروری ریگولیٹری اور دیگر قانونی منظوریاں حاصل کریں گی، جس کے بعد گیس سپلائی کے حتمی معاہدے پر عملدرآمد ہوگا۔

قومی معیشت پر اثرات

معاشی ماہر منور مرزا نے تھرڈ پارٹی گیس فریم ورک کے تحت اس اہم معاہدے کو پاکستان کی معیشت اور انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تھرڈ پارٹی گیس فریم ورک کے تحت نجی شعبے کو گیس کی براہ راست خریدوفروخت کی اجازت ملنا توانائی کی مارکیٹ کے لیے انقلابی قدم ہے۔ اس سے نہ صرف سرکاری گیس کمپنیوں پر سے مالی دباؤ کم ہوگا بلکہ صنعتی شعبے کو بلاتعطل گیس کی فراہمی ممکن ہو سکے گی، جو ملکی معاشی نمو کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

معیشت کو حاصل ہونے والے اہم فوائد

معاشی ماہر جنید خان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر قدرتی گیس کی پیداوار اور فراہمی میں اضافے سے پاکستان کا مہنگی درآمدی ایل این جی پر انحصار کم ہوگا، جس کے نتیجے میں ملک کو قیمتی زر مبادلہ کی مد میں اربوں روپے کی بچت حاصل ہو سکے گی۔

صنعتوں کی بلاتعطل آمدن اور روزگار

جنید خان کے مطابق نجی تقسیم کار کمپنی یو جی ڈی سی کے ذریعے صنعتی صارفین کو گیس کی بروقت فراہمی سے کارخانوں اور صنعتی شعبے کی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں گی، جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

سرمایہ کاری اور ایکسپلوریشن میں اضافہ

معاشی ماہر سلمان نقوی کے مطابق ماری انرجیز کی 70 فیصد سے زیادہ کی کامیاب تلاش عالمی معیار سے اوپر ہے۔ اس جیسے معاہدوں سے مقامی اور غیر ملکی کمپنیاں نئے بلاکس میں مزید سرمایہ کاری کے لیے راغب ہوں گی۔

یہ گیس کتنا حصہ ڈالے گی؟

سلمان نقوی کے مطابق یومیہ 17.5 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس کی فراہمی بظاہر محدود دکھائی دیتی ہے، تاہم نجی شعبے کے ذریعے اس کی مؤثر تقسیم درجنوں درمیانے اور بڑے صنعتی اداروں، خصوصاً ٹیکسٹائل، کھاد (فرٹیلائزر) اور سی این جی سیکٹر کی روزانہ گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ثابت ہو سکتی ہے۔

قومی پیداوار میں اضافہ

انہوں نے کہاکہ وزیرستان کا سرحدی خطہ ماضی میں سیکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے جانا جاتا رہا ہے، تاہم اس علاقے سے گیس کی دریافت اور اسے قومی گیس نیٹ ورک کا حصہ بنانا وزیرستان کو توانائی کے شعبے میں ایک ابھرتے ہوئے ہائیڈروکاربن ہب کی حیثیت دے سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: سجاول میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت، شاہ بندر بلاک سے پیداوار شروع

ان کے مطابق اس گیس فیلڈ کے مکمل تجارتی استعمال سے پاکستان کے انرجی مکس میں مقامی گیس کا حصہ بڑھے گا، جس سے توانائی کے بحران پر قابو پانے اور ملک کی توانائی کی ضروریات زیادہ پائیدار انداز میں پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp