دنیا بھر میں اربوں افراد گوگل سرچ، جی میل، یوٹیوب، گوگل میپس اور اینڈرائیڈ جیسی سروسز مفت استعمال کرتے ہیں، تاہم گوگل کی بنیادی کمپنی الفابیٹ (Alphabet) کی آمدنی کا بڑا حصہ اشتہارات، کلاؤڈ سروسز، سبسکرپشنز اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے حاصل ہوتا ہے۔
الفابیٹ نے 30 جون کو ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی نے 119.8 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اوسطاً 54.9 ملین ڈالر فی گھنٹہ اور 9 لاکھ 15 ہزار ڈالر فی منٹ بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی سیٹلائٹ تصاویر کے خدشات، گوگل نے نیا اے آئی فیچر عارضی طور پر واپس لے لیا
مالیاتی رپورٹ کے مطابق مجموعی آمدنی کا 68 فیصد یعنی 81.63 ارب ڈالر اشتہارات سے حاصل ہوا۔ گوگل سرچ اور اس سے وابستہ اشتہارات نے 63.27 ارب ڈالر، یوٹیوب اشتہارات نے 11.06 ارب ڈالر جبکہ گوگل کے اشتہاری نیٹ ورک نے 7.3 ارب ڈالر کی آمدنی فراہم کی۔
گوگل کی کاروباری حکمتِ عملی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ صارفین سے براہِ راست فیس لینے کے بجائے کاروباری اداروں کو ان تک رسائی فراہم کی جائے۔ جب صارف کسی مصنوعات یا سروس سے متعلق سرچ کرتا ہے تو کمپنیاں اسی موقع پر اپنے اشتہارات نمایاں کرنے کے لیے گوگل کو ادائیگی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے لانچ سے پہلے ہی اے آئی سٹوڈیو موبائل ایپ کیوں منسوخ کی؟
کمپنی کے مطابق اشتہارات کی ترتیب صرف زیادہ بولی لگانے والے مشتہر کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ اشتہار کی مطابقت، معیار، لینڈنگ پیج کے تجربے اور دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔
گوگل اور الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی کا کہنا ہے کہ کمپنی کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نئے فیچرز سرچ کے استعمال میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق گوگل نے سرچ میں AI Summaries اور AI Mode جیسے فیچرز متعارف کرائے ہیں جن کے ساتھ اشتہارات بھی دکھائے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ گوگل صارفین کی ذاتی معلومات فروخت نہیں کرتا بلکہ مشتہرین کو ایسے اشتہاری ٹولز فراہم کرتا ہے جو سرچ، مقام، ڈیوائس اور دیگر عمومی معلومات کی بنیاد پر موزوں صارفین تک اشتہارات پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔ یہ تمام عمل صارف کی پرائیویسی سیٹنگز اور متعلقہ قوانین کے مطابق انجام دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب Google Cloud کمپنی کی تیزی سے ترقی کرنے والی سروس بن کر سامنے آئی، جس کی آمدنی سالانہ بنیاد پر 82 فیصد اضافے کے ساتھ 24.77 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس شعبے کے ذریعے گوگل کاروباری اداروں اور سرکاری تنظیموں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اسٹوریج، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل کا اب تک کا سب سے دلچسپ فیچر، صارفین سیلفی سے لاگ ان ہوسکیں گے
اسی طرح یوٹیوب اشتہارات کے علاوہ YouTube Premium جیسی سبسکرپشن سروسز سے بھی آمدنی حاصل کرتا ہے جبکہ گوگل پلے، Google Workspace، Google One اور ہارڈویئر مصنوعات بھی الفابیٹ کی آمدنی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق گوگل کی مفت سروسز کا اصل خرچ صارفین نہیں بلکہ مشتہرین، سبسکرائبرز، ایپ ڈویلپرز اور کلاؤڈ صارفین برداشت کرتے ہیں، یہی ماڈل الفابیٹ کو دنیا کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شامل رکھتا ہے۔














