بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار سلمان خان اور ان کی بہن الویرا خان اگنی ہوتری کو بینگ ہیومن جیولری شوروم سے متعلق تقریباً 3 کروڑ بھارتی روپے کے تنازع میں چنڈی گڑھ کی ایک ضلعی عدالت نے 5 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ چنڈی گڑھ کے کاروباری شخص ارون گپتا کی جانب سے دائر کی گئی فوجداری شکایت پر مبنی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے بینگ ہیومن جیولری کا شوروم قائم کرنے کے لیے تقریباً 3 کروڑ بھارتی روپے کی سرمایہ کاری کی تاہم معاہدے کے مطابق انہیں مطلوبہ تعاون، تشہیر اور جیولری کی بروقت فراہمی نہیں کی گئی جس کے باعث انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان بڑی بیماری کا شکار ہوگئے؟ لوگوں کے بڑھتے سوال پر بالی ووڈ اداکار نے کیا جواب دیا؟
شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ شوروم کے افتتاح کے لیے انہیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سلمان خان خود شرکت کریں گے تاہم افتتاح کے موقع پر ان کے بہنوئی آیوش شرما نے شرکت کی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعد ازاں جیولری کی سپلائی متاثر ہوئی اور متعلقہ دفتر بھی بند ہو گیا جبکہ سلمان خان سے ملاقات اور متعدد خطوط کے باوجود مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔
یہ معاملہ پہلی بار 2021 میں منظرِ عام پر آیا تھا جب چنڈی گڑھ پولیس نے سلمان خان، الویرا خان اور دیگر متعلقہ افراد کو پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا تھا۔ اب تقریباً پانچ برس بعد کیس عدالتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور عدالت نے تمام نامزد افراد کو 5 اکتوبر کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان سے قانونی جنگ، فلم کالا ہرن کے مرکزی اداکار علیحدگی اختیار کرگئے
دوسری جانب بینگ ہیومن فاؤنڈیشن اس معاملے میں پہلے ہی تمام الزامات کی تردید کر چکی ہے۔ فاؤنڈیشن کا مؤقف ہے کہ متعلقہ معاہدہ لائسنس یافتہ کمپنی اور شکایت کنندہ کے درمیان تھا جبکہ سلمان خان، الویرا خان اور فاؤنڈیشن اس معاہدے کا حصہ نہیں تھے۔
فاؤنڈیشن نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ سلمان خان صرف بینگ ہیومن برانڈ کے مالک ہیں اور فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی نہیں ہیں اس لیے انہیں اس معاہدے سے جوڑنا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہر طرف گندگی اور صرف ایک بیت الخلا‘، سلمان خان نے جیل میں گزرے دنوں کا حال سنا دیا
تاحال سلمان خان یا الویرا خان اگنی ہوتری نے حالیہ عدالتی طلبی پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا ہے۔ عدالت میں آئندہ سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی جبکہ شکایت میں لگائے گئے الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔













