سلمان خان سے قانونی جنگ، فلم کالا ہرن کے مرکزی اداکار علیحدگی اختیار کرگئے

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بالی ووڈ فلم کالا ہرن دی بیٹل فار لیگیسی کے پروڈیوسرز کے درمیان جاری قانونی تنازع کے دوران فلم کو بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ سلمان خان کا کردار ادا کرنے والے اداکار سونو مشرا نے منصوبے سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سونو مشرا نے فلم چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہیں اندازہ ہوا کہ فلم کا مقصد سلمان خان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان  نے فلم ’کالا ہرن‘ کی ریلیز رکوانے  کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی

کالا ہرن، دی بیٹل فار لیگیسی ایک کرائم تھرلر اور عدالتی ڈراما ہے، جو 1998 میں راجستھان میں پیش آنے والے کالا ہرن کے شکار کے متنازع مقدمے سے متاثر ہوکر تیار کی جارہی ہے۔ اس مقدمے میں سلمان خان پر محفوظ نسل کے کالے ہرن کے شکار کا الزام عائد کیا گیا تھا، جس کے بعد طویل قانونی کارروائی شروع ہوئی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by FILMYGYAN VIDEOS (@filmygyanvideos)

سلمان خان نے فلم کی تیاری، تشہیر اور ریلیز روکنے کے لیے دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلم ان کے شخصی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتی ہے۔

سلمان خان کا مؤقف ہے کہ یہ فلم ان کی عوامی شناخت کو غیرقانونی طور پر استعمال کرتی ہے، ان کی ساکھ کو متاثر کرسکتی ہے اور زیرِ سماعت مقدمے پر بھی اثر انداز ہونے کا خدشہ ہے۔

درخواست میں سلمان خان نے کہا کہ فلم کے پوسٹرز، ٹیزر اور تشہیری مواد سے واضح طور پر ان کی شناخت ظاہر ہوتی ہے، جبکہ فلم سازوں نے ان سے مشابہ اداکار کو ان کے مخصوص بریسلٹ کے ساتھ پیش کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کالا ہرن: سلمان خان کا پروڈیوسر کو قانونی نوٹس: فلم میری شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، بالی ووڈ سپر اسٹار کا مؤقف

سونو مشرا نے بھارتی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابتدا میں یہ سمجھ کر فلم قبول کی تھی کہ اس میں سلمان خان کو مثبت انداز میں پیش کیا جائے گا، تاہم بعد میں فلم کی اصل سمت معلوم ہونے پر انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر اس سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Joy Sengupta (@joysengupta97)

انہوں نے کہا کہ وہ کسی سینیئر اداکار کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ان کے مطابق انہیں بشنوئی برادری سے کسی قسم کی دھمکی نہیں ملی کیونکہ وہ خود بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فلم بشنوئی برادری کی سماجی خدمات پر بنتی تو وہ خوشی سے اس کا حصہ بنتے۔

یاد رہے کہ 1998 میں فلم ہم ساتھ ساتھ ہیں کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرنوں کے شکار کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو بھی نامزد تھے، تاہم بعد ازاں انہیں بری کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان سے قربت، لارنس بشنوئی گینگ کی گلوکار گرو رندھاوا کے جمخانے پر فائرنگ

2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم بعد میں انہیں ضمانت مل گئی اور انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔

2022 میں راجستھان ہائی کورٹ نے اس مقدمے سے متعلق تمام کارروائیاں اپنے دائرہ اختیار میں لے لیں، جہاں یہ کیس تاحال زیرِ سماعت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp