فیک نیوز روکنے کے لیے صحافتی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا، عظمیٰ بخاری

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ فیک نیوز کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا، صحافتی برادری خود ایسا طریقہ کار اپنائے کہ غلط خبر کو غلط قرار دے اور ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

لاہور میں کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے عہدیداران سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ صوبے میں ڈھائی ہزار سے زائد ڈمی اخبارات ختم کیے گئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے اختیار ڈپٹی کمشنرز کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کے اختیارات پر نظرثانی کی جا رہی ہے، اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے جو اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ کون سا اخبار باقاعدگی سے شائع ہو رہا ہے اور کون سا ڈمی ہے، اس کا فیصلہ کرنے کا اختیار ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز کے پاس ہونا چاہیے کیونکہ وہ اس معاملے کو بہتر انداز میں دیکھ سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنرز کے پاس اس حوالے سے کوئی مؤثر طریقہ کار موجود نہیں، انہیں جو معلومات فراہم کی جاتی ہیں وہ اسی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ بیرون ملک بیٹھے بعض یوٹیوبرز ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر صحافی برادری خود اپنی صفوں میں احتساب کا نظام قائم کرے اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے تو حکومت کو کسی قانون سازی یا اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیک نیوز کے خاتمے کیلئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ صحافی صرف صحافی ہوتا ہے، وہ کسی کا کارکن یا ترجمان نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کے پاس کیمرہ اور مائیک ہوتا ہے، انہیں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے، لیکن ہر شخص جو یہ کام کرتا ہے اسے صحافت نہیں کہا جا سکتا۔

انہوں نے صحافتی برادری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ خاموشی اپنی عزت اور وقار کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اچھے صحافی خبر دینے سے پہلے تمام فریقین کا مؤقف لیتے ہیں اور دوسرے کی رائے بھی شامل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی پر الزام لگایا جائے کہ اس نے کروڑوں روپے کی جائیداد بنائی یا کسی منصوبے میں بدعنوانی کی تو اس کا ثبوت بھی دینا ہوگا۔ صرف کسی کو بدنام کرنے یا سنسنی پھیلانے کے لیے خبر دینا درست نہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بنیادی حقوق کی بات ضرور ہونی چاہیے، لیکن قومی مفاد سب سے مقدم ہے۔ ہم سب پہلے پاکستانی ہیں، اس کے بعد ہماری دیگر شناختیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ملک دشمن عناصر کی زبان بولے، پاکستان کے خلاف بات کرے یا علیحدگی پسندی اور مسلح جدوجہد کی حمایت کرے تو اس کی مخالفت کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ شواہد موجود ہوں کہ دشمن ممالک اپنے مذموم مقاصد کے لیے پراکسی عناصر استعمال کر رہے ہیں تو صحافیوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پاکستان کا حصہ ہے اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے طلبہ سمیت تمام صوبوں کے نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیپ ٹاپ اور اسکالرشپ پروگرام میں بھی مختلف صوبوں کے طلبہ کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحافی رائے عامہ بنانے والے افراد ہوتے ہیں، اس لیے ان کی ذمہ داری عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے اور انہیں ہر معاملے میں حقائق اور قومی مفاد کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کی مذمت، خیبرپختونخوا اسمبلی کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق متفقہ قرارداد منظور

میڈیکل و ڈینٹل کالج داخلہ ٹیسٹ کی تاریخ تبدیل، امتحان 20 ستمبر کو ہوگا

اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

میٹا کے کیمرا نصب اسمارٹ چشموں پر برطانیہ میں رازداری کے خدشات، کئی مقامات پر پابندی

ویڈیو

براڈ پیک سانحہ: نرمل پرجا سمیت 5 بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی لاشیں اسکردو منتقل، 2 لاپتا افراد کی تلاش جاری

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب روانہ، سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے اہم ملاقات کریں گے

وزیراعظم، اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ سعودی عرب آج سے، خطے کی صورتحال اور فلسطین سمیت اہم امور پر مشاورت ہوگی، دفتر خارجہ

کالم / تجزیہ

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ