سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے خیبرپختونخوا میں جاری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کو معاملے کی جامع تحقیقات کرانے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا کے 6 فلیگ شپ منصوبے کون سے ہیں؟
یہ ہدایات سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں جاری کی گئیں جہاں خیبرپختونخوا میں ورلڈ بینک کے تعاون سے جاری منصوبوں، کراچی موبیلٹی پروجیکٹ (بی آر ٹی ییلو لائن) اور اکرم واہ کینال منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق متعدد منصوبوں کے ٹینڈرنگ عمل میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض منصوبوں کو مختلف پیکجز میں تقسیم کیا گیا جس سے مخصوص ٹھیکیداروں کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوا جبکہ این آئی ٹی-1، این آئی ٹی-2 اور این آئی ٹی-3 کے مراحل میں بھی قواعد سے انحراف سامنے آیا۔
کمیٹی نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ منصوبوں میں سنگل اسٹیج ون اینویلپ طریقہ کار اختیار کیا گیا حالانکہ شفافیت کے تقاضوں کے مطابق سنگل اسٹیج ٹو اینویلپ طریقہ کار زیادہ مناسب تھا۔ خیبرپختونخوا کے محکمہ مواصلات و تعمیرات کے حکام نے بتایا کہ کم ترین بولی دہندہ کی تکنیکی جانچ سے پہلے ہی مالی بولیاں کھول دی گئی تھیں جسے کمیٹی نے پیپرا قواعد اور شفاف خریداری کے اصولوں کے خلاف قرار دیا۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا کے عوام پی ٹی آئی سے چھٹکارا چاہتے ہیں، ڈاکٹر شائستہ جدون
اقتصادی امور ڈویژن کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ورلڈ بینک سے مشاورت اور خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست پر منصوبے کی فوری ضرورت کے پیش نظر سنگل اسٹیج ون اینویلپ طریقہ کار اختیار کیا گیا تھا۔
کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ محدود تعداد میں ٹھیکیداروں کو متعدد ٹھیکے دیے گئے جس سے خریداری کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے اقتصادی امور ڈویژن کو ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں سے مکمل تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اضافی ادائیگیوں کی وصولی یقینی بنائی جائے اور ورلڈ بینک سے اس خریداری کے عمل کو ’مس پروکیورمنٹ‘ قرار دینے کی درخواست بھی کی جائے۔
کمیٹی نے وفاقی حکومت کو سفارش کی کہ غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے نئے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا اسمبلی ایک دہائی بعد بھی مکمل پیپر لیس کیوں نہ بن سکی؟
چیئرمین نے اقتصادی امور ڈویژن کو ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر سے ملاقات کا اہتمام کرنے اور کمیٹی کی سفارشات خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور صوبائی کابینہ تک پہنچانے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں کراچی موبیلٹی پروجیکٹ (بی آر ٹی ییلو لائن) کا بھی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ منصوبہ دسمبر 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے جبکہ سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت 250 الیکٹرک بسیں خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمیٹی نے منصوبے میں مکمل شفافیت یقینی بنانے اور تمام تجاویز، بشمول سبسڈی کی تفصیلات، کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔
قائمہ کمیٹی نے اکرم واہ کینال منصوبے کا بھی جائزہ لیا۔ اجلاس میں بعض اہم دستاویزات خفیہ قرار دے کر فراہم نہ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: سینیٹ کمیٹی: خیبرپختونخوا میں سیاحت کے فروغ میں رکاوٹوں پر بحث، متعلقہ حکام کو طلب کرنے کا مطالبہ
حکام نے وضاحت کی کہ ورلڈ بینک کے قواعد کے مطابق خریداری کا عمل مکمل ہونے تک معاہدوں سے متعلق معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے حکام کو معاہدے کی تکمیل کا واضح ٹائم لائن پیش کرنے اور بولیوں کے جائزے کے ہر مرحلے پر سخت نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔














