سال 2016 میں خیبر پختونخوا اسمبلی نے ای گورننس نظام کے تحت اسمبلی کارروائی کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے کے لیے ٹچ اسکرین سسٹم متعارف کراتے ہوئے خود کو ایشیا کی پہلی ڈیجیٹل اور پیپر لیس اسمبلی قرار دیا تھا۔ تاہم اس اعلان کے تقریباً ایک دہائی بعد بھی اسمبلی کے امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا اور کاغذ کے استعمال کا روایتی نظام اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں کیوں بلایا گیا؟
خیبر پختونخوا اسمبلی کے سیکریٹری سید وقار شاہ کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا اسمبلی ایشیا کی واحد اسمبلی تھی جسے ڈیجیٹل بنانے کا اقدام کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد اسمبلی کے امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنا اور کارروائی کو کاغذ کے بجائے آن لائن کرکے اسمبلی کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے مارچ 2016 میں کروڑوں روپے مختص کیے گئے اور ای گورننس سسٹم کے تحت اراکین اسمبلی کی نشستوں کے سامنے جدید ٹچ اسکرینیں نصب کی گئیں تاکہ ایجنڈا، بلز، قراردادیں اور دیگر سرکاری دستاویزات ڈیجیٹل انداز میں فراہم کی جا سکیں اور کاغذ کے استعمال کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
پی کے 89 سے منتخب رکن اسمبلی آمنہ سردار، جو اس وقت بھی اسمبلی کی رکن تھیں نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں پیپر لیس اسمبلی کے منصوبے پر کافی حد تک عملدرآمد ہوا تھا اور اراکین اسمبلی نے بھی اس میں بھرپور دلچسپی لی۔ ان کے مطابق اس وقت کے اراکین کو ٹچ اسکرین اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال کی باقاعدہ تربیت بھی دی گئی تھی اور عملی طور پر اس نظام کو استعمال کرنا شروع کر دیا گیا تھا۔
تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اسمبلی مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونے کے بجائے دوبارہ روایتی اور کاغذی نظام کی طرف لوٹنے لگی جس کے نتیجے میں اراکین کو ایجنڈا، بلز اور دیگر دستاویزات دوبارہ پرنٹ شدہ صورت میں فراہم کی جانے لگیں۔ آمنہ سردار کے مطابق آج بھی ہر رکن کی نشست کے سامنے ٹچ اسکرین نصب ہے لیکن ان کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ صرف نظام میں نہیں بلکہ اراکین کے رویوں میں بھی ہے کیونکہ زیادہ تر اراکین جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور نہ ہی اس جانب سنجیدہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
آمنہ سردار نے بتایا کہ ٹچ اسکرین سسٹم کے ساتھ زیادہ تر سرکاری محکمے اور ڈیٹا بیس منسلک نہیں ہیں جس کی وجہ سے اراکین اس پر مطلوبہ معلومات تلاش بھی نہیں کر سکتے۔ ان کے بقول محدود سہولیات کے باعث وہ خود اسمبلی کارروائی کے دوران اپنا آئی پیڈ استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اسکرین سسٹم اپنی نوعیت میں انتہائی مفید ہے۔ اس سے اراکین کو معلومات تلاش کرنے، نوٹس لینے اور دستاویزات تک فوری رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے، تاہم اس نظام کو مزید اپ گریڈ اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے‘۔
مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری دیدی
انہوں نے مزید بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں اراکین کو تربیت دی گئی تھی لیکن بعد میں تربیتی عمل بھی رک گیا جس کی وجہ سے نئے منتخب ہونے والے اراکین کی بڑی تعداد اس نظام سے پوری طرح واقف نہیں ہو سکی۔
ڈیجیٹل نظام کے تحت اراکین اسمبلی کے ڈیسکوں پر جدید ٹچ اسکرینیں نصب کی گئی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی حاضری درج کرنے کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور ووٹنگ کے عمل میں بھی ڈیجیٹل انداز میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے ایجنڈے، کارروائی کی تفصیلات اور دیگر دستاویزات بھی انہی اسکرینوں پر ڈیجیٹل فارمیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں تاہم عملی طور پر ان کا استعمال انتہائی محدود ہے اور اراکین کو اب بھی روایتی انداز میں ایجنڈا اور دیگر دستاویزات پرنٹ شدہ صورت میں فراہم کی جاتی ہیں۔
اسمبلی حکام کے مطابق ان اسکرینوں کے ذریعے تقاریر کا اردو، انگریزی اور مقامی زبانوں میں براہِ راست ترجمہ بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ پیپر لیس اسمبلی منصوبے کا مقصد صرف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ہی نہیں تھا بلکہ کفایت شعاری، کاغذ کے استعمال میں کمی اور انتظامی شفافیت کو فروغ دینا بھی اس کے اہم مقاصد میں شامل تھا۔
ایک دہائی گزرنے کے باوجود پیپر لیس اسمبلی مکمل طور پر فعال کیوں نہ ہو سکی؟
سیکریٹری خیبر پختونخوا اسمبلی سید وقار شاہ کے مطابق منصوبے کے ابتدائی برسوں میں پیپر لیس نظام پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا جا رہا تھا اور اسمبلی کے دفاتر کو بھی ڈیجیٹل نظام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ان کے بقول اس دور میں اسمبلی نہ صرف ’پیپر لیس‘ بلکہ ’لیس پیپر‘ یعنی کم سے کم کاغذ استعمال کرنے والی اسمبلی بن چکی تھی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کو گزشتہ 5 برسوں میں کتنے فنڈز ملے؟ اعداد و شمار اسمبلی میں جمع
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے مکمل طور پر کامیاب نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ روایتی دفتری طریقہ کار اور صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کا اس نظام کے ساتھ مکمل طور پر مربوط نہ ہونا تھا۔ اُن کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس منصوبے کے باعث تقریباً 4 کروڑ روپے کی بچت ہوئی تھی، جبکہ اگر اس پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا جائے تو سالانہ 6 کروڑ روپے تک کی بچت ممکن ہے۔
وقار شاہ نے بتایا کہ ماضی میں بجٹ دستاویزات کی ضخیم کتابیں پرنٹ کرکے اراکین کو فراہم کی جاتی تھیں تاہم اب انہیں یو ایس بی کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے جس سے اخراجات میں نمایاں کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپر لیس اسمبلی منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے جس کے تحت کانفرنس رومز اور دیگر دفتری شعبوں میں بھی جدید اسکرینیں نصب کی جائیں گی جبکہ اس نظام کو صوبائی حکومت کے مختلف محکموں کے ساتھ بھی منسلک کیا جائے گا تاکہ حکومت کی جانب سے آنے والا تمام مواد آن لائن دستیاب ہو سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی، ملک کا پہلا پیپر لیس ایوان بن گیا
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عملی کام جاری ہے اور مستقبل میں اسمبلی کے مزید امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔













