امریکی سرمایہ کاری سے پاکستان کا زرعی شعبہ جدید خطوط پر استوار ہوسکتا ہے، نیٹلی بیکر

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے کہا ہے کہ امریکی سرمایہ کاری سے پاکستان کا زرعی شعبہ جدید خطوط پر استوار ہوسکتا ہے، امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت کے استعمال سے نہ صرف امریکی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کے لیے بھی نئی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک امریکا براہِ راست پروازیں جلد بحال ہونے کی امید ہے، نیٹلی اے بیکر

جمعرات کے روز امریکی مشن پاکستان کی جانب سے خوشحالی کے نصب العین کے تحت رواں ہفتے ایک ڈائریکٹ لائن ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں، پاکستان کے سرکاری اہلکاروں اور زرعی پیداوار سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔

ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں زراعت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جو مجموعی ملکی پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہے اور لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت کے استعمال سے نہ صرف امریکی کمپنیوں کے لیے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ پاکستان کے لیے بھی نئی منڈیوں تک رسائی ممکن ہوگی۔

نیٹلی بیکر کا کہنا تھا کہ امریکی کمپنیاں اپنی جدید ٹیکنالوجی، مہارت اور کئی دہائیوں کے تجربے کی بنیاد پر پاکستان کے زرعی شعبے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جدید زرعی مشینری، بہتر آبپاشی نظام، ڈیجیٹل فارم مینجمنٹ اور کولڈ چین لاجسٹکس جیسی سہولیات کسانوں کو وسائل کے بہتر استعمال کے ساتھ پیداوار بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاک امریکا تجارتی مذاکرات: کیا پاکستانی برآمدات کو امریکی ٹیرف میں ریلیف ملے گا؟

امریکی سفارتخانے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت میں پہلے ہی اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ 2025 میں پاکستان کو امریکی زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات ڈیڑھ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی تھیں۔

ویبینار میں پاکستانی نمائندوں نے سویا بین، کپاس اور بیج سمیت امریکی زرعی مصنوعات کی درآمدات میں اضافے کے لیے پالیسی اور ضابطہ جاتی اصلاحات کی نشاندہی کی۔

شرکا نے کھیتوں کے لیے مشینی سہولیات، ماحول کو قابو میں رکھنے والے گوداموں، خوراک کی تیاری، بیجوں کی تیاری اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی۔

ناظم الامور نیٹلی بیکر نے کہا کہ امریکی کمپنیاں نئی منڈیوں میں صرف ٹیکنالوجی ہی متعارف نہیں کراتیں بلکہ معلومات کا تبادلہ، مقامی شراکت داروں کی تربیت اور دیرپا کاروباری تعلقات کے قیام میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔

ویبینار میں پاکستان کے لیے امریکی محکمہ تجارت کے زرعی ٹیکنالوجی تجارتی مشن کا پیشگی جائزہ بھی لیا گیا، جو رواں سال 26 سے 30 اکتوبر تک منعقد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کا کراچی کا دورہ، تجارت و سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے پر زور

نیٹلی بیکر نے امریکی کمپنیوں کو پاکستان کی بڑھتی ہوئی زرعی ٹیکنالوجی مارکیٹ کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سفارتخانے کی ترجیح امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں مواقع تلاش کرنے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے ویبینار میں شرکت پر بین الاقوامی تعاون کے لیے کاروباری کونسل، حکومت پاکستان، پنجاب اور سندھ کے حکام، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، گرین کارپوریٹ اقدام اور امریکی کاروباری اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے شاہ غلام قادر کی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ

مچل اسٹارک کا نیا ریکارڈ، بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر بن گئے

روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا