ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید نوعیت کا کورونا وائرس جسم میں طویل عرصے سے غیرفعال پڑے دیگر وائرسز کو دوبارہ متحرک کر سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس عمل کا تعلق بیماری کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ’لانگ کووڈ‘ کی طویل المدتی علامات سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسپتال میں زیرِ علاج تقریباً نصف مریضوں میں یہ خاموش وائرسز دوبارہ سرگرم پائے گئے۔
کووڈ-19 کی وبا کے دوران ہی سائنسدانوں نے یہ اندازہ لگانا شروع کر دیا تھا کہ یہ وائرس محض تنفس کے نظام تک محدود نہیں بلکہ جسم کے مدافعتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے مزید 5 کیسز رپورٹ، احتیاطی تدابیر پر زور
حالیہ تحقیق اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو بدھ کو مؤقر سائنسی جریدے ‘نیچر’ میں شائع ہوئی۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا شدید کووڈ-19 انسانی جسم میں پہلے سے موجود دیگر وائرسز کو بھی متاثر کرتا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا مریض کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
تحقیق کا دائرہ کار
محققین نے امریکا بھر کے 20 اسپتالوں میں مئی 2020 سے مارچ 2021 کے دوران زیرِ علاج رہنے والے 1,154 بالغ کووڈ-19 مریضوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تمام شریک مریض غیرحفاظتی ٹیکہ لگوائے بغیر متاثر ہوئے تھے اور ان کا انفیکشن اس وقت ہوا جب کورونا وائرس کی جدید اقسام ابھی عام نہیں ہوئی تھیں۔
محققین نے مریضوں کے خون، ناک کے سواب اور وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں کے پھیپھڑوں سے لیے گئے نمونوں کا تجزیہ کیا، جبکہ مریضوں کو اسپتال میں داخلے کے دوران اور اس کے بعد بارہ ماہ تک مسلسل زیرِ نگرانی رکھا گیا۔
تقریباً نصف مریضوں میں پرانے وائرس دوبارہ متحرک
کافی معلومات دستیاب رکھنے والے 1,148 مریضوں میں سے 550 یعنی 47.9 فیصد میں کم از کم ایک ایسا وائرس دوبارہ متحرک پایا گیا جو پہلے سے ان کے جسم میں غیرفعال حالت میں موجود تھا۔
زیادہ تر ایسے مریضوں میں کرونا وائرس کی شدید حالت کے دوران صرف ایک اضافی وائرس ہی دوبارہ سرگرم ہوا۔ دوبارہ متحرک ہونے والے وائرسز میں ہرپیس وائرس خاندان کے ارکان جیسے ایپسٹین بار وائرس، سائٹومیگالو وائرس اور ہرپیس سمپلیکس وائرس، نیز اینیلو وائرسز شامل تھے۔
مزید پڑھیں:پاکستان دنیا کا سب سے بڑا سولر پینل امپورٹر لیکن ریٹ میں کب کتنی کمی ہوئی؟
یہ عام طور پر ایسے وائرسز ہیں جو ابتدائی عمر میں ہی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں اور مدافعتی نظام کی مضبوط گرفت کے باعث برسوں تک بغیر کسی علامت کے خاموش پڑے رہتے ہیں۔
وائرسز کی بیداری مختلف اوقات میں
تحقیق سے یہ دلچسپ حقیقت بھی سامنے آئی کہ یہ تمام وائرسز ایک ہی وقت میں دوبارہ متحرک نہیں ہوئے۔ ایپسٹین بار وائرس کی سرگرمی اسپتال میں داخلے کے وقت سب سے زیادہ نمایاں تھی، جو داخلے کے پہلے 8 دن کے دوران 24 فیصد مریضوں میں دیکھی گئی اور اس کے بعد بتدریج کم ہوتی گئی۔
اینیلو وائرس کی سرگرمی بھی اسپتال میں داخلے کے ابتدائی ایام میں عام تھی اور تقریباً 20 دن تک نسبتاً مستحکم رہی۔
اس کے برعکس سائٹومیگالو وائرس اور ہرپیس سمپلیکس وائرس عموماً دیر سے متحرک ہوئے اور اسپتال میں داخلے کے تقریباً 3 ہفتے بعد اپنی عروج کی سطح پر پہنچے اور بنیادی طور پر تنفسی نمونوں میں ظاہر ہوئے۔
بیماری کی شدت اور مدافعتی ردعمل سے تعلق
محققین نے شدید کووڈ-19 اور ایپسٹین بار وائرس، سائٹومیگالو وائرس، ہرپیس سمپلیکس وائرس اور اینیلو وائرسز کی بیداری کے مابین واضح تعلق دریافت کیا۔
جن مریضوں میں یہ پرانے وائرس دوبارہ متحرک ہوئے، ان میں سوزش پیدا کرنے والے مالیکیولز کی سطح بھی زیادہ پائی گئی اور مدافعتی خلیوں میں تبدیلیاں بھی نوٹ کی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان مریضوں کا جسم صرف سارس، کووڈ-2 وائرس ہی نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ چیزوں کے خلاف ردعمل ظاہر کر رہا تھا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ وائرل بیداری صرف ان مریضوں تک محدود نہیں رہی جو مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والی ادویات استعمال کر رہے تھے، بلکہ عام مضبوط مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں بھی یہ عمل کثرت سے دیکھا گیا۔
لانگ کووڈ سے ممکنہ تعلق
تحقیق میں اینیلو وائرسز کو خصوصی اہمیت دی گئی، کیونکہ اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد ان کی سرگرمی کا تعلق لانگ کووڈ کے مریضوں میں رپورٹ کی جانے والی جسمانی مشکلات جیسے شدید تھکاوٹ اور جسمانی صلاحیت میں کمی سے دیکھا گیا۔
محققین نے عمر، ادویات کے باعث مدافعتی کمزوری اور ابتدائی کووڈ-19 انفیکشن کی شدت جیسے عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی یہ تعلق برقرار پایا۔
یہ بھی پڑھیں:کیا کورونا نے پھر سر اٹھالیا، سندھ میں کیسز بڑھ رہے ہیں؟
واضح رہے کہ اینیلو وائرسز عمومی طور پر بے ضرر وائرسز کا ایک بڑا خاندان ہیں جو دنیا کی 80 سے 90 فیصد آبادی میں موجود ہوتے ہیں۔ تاہم تحقیق میں یہ بات سامنے نہیں آئی کہ شدید کووڈ-19 کے دوران ایپسٹین بار وائرس کی سرگرمی ان مریضوں میں زیادہ عام تھی جنہیں بعد میں لانگ کووڈ لاحق ہوا۔
احتیاط اور مستقبل کی راہ
محققین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کی روشنی میں مستقبل میں شدید کووڈ-19 اور لانگ کووڈ کی پیش گوئی اور علاج کے نئے طریقے تیار کیے جا سکتے ہیں، جن میں مریضوں میں غیرفعال وائرسز کی بیداری کی نگرانی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہرپیس وائرسز کے علاج کے لیے موجودہ اینٹی وائرل ادویات بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم یہ جاننے کے لیے کہ آیا وائرل بیداری کا علاج مریضوں کی حالت میں بہتری لاتا ہے، مزید کلینیکل مطالعات کی ضرورت ہوگی۔
تاہم محققین نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ ان کی تحقیق یہ ثابت نہیں کرتی کہ دوبارہ متحرک ہونے والے وائرسز ہی شدید بیماری یا لانگ کووڈ کی براہِ راست وجہ ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ نتائج ممکنہ طور پر ہلکے کووڈ-19 کے مریضوں، ٹیکہ لگوانے والی آبادی یا کورونا وائرس کی جدید اقسام سے متاثرہ افراد پر مکمل طور پر لاگو نہ ہوں۔
محققین نے مزید تحقیق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا ابھی باقی ہے کہ آیا وائرل بیداری خود شدید کووڈ-19 اور لانگ کووڈ کا سبب بنتی ہے، یا یہ محض بیماری کے باعث پیدا ہونے والے تناؤ اور سوزش کا ایک نتیجہ ہے۔














