سائنس دانوں نے سورج کی سطح کی اب تک کی سب سے واضح تصاویر اور ویڈیوز حاصل کر لی ہیں، جن میں پہلی بار ایسے باریک گرداب دیکھے گئے ہیں جو سورج پر آنے والے خطرناک طوفانوں کی وجہ جاننے میں مدد دے سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:ماہ رواں کا مکمل سورج گرہن: سائنسدانوں کے لیے پراسرار راز جاننے کا سنہری موقع

یہ تصاویر ہوائی میں نصب دنیا کی سب سے طاقتور شمسی دوربین سے لی گئی ہیں۔ اس تحقیق میں سورج کے نسبتاً ٹھنڈے حصے کے کنارے پر چھوٹے چھوٹے بھنور نما گرداب دیکھے گئے، جو پہلے کبھی اتنی وضاحت سے نظر نہیں آئے تھے۔
ماہرین کے مطابق یہ گرداب اس وقت بنتے ہیں جب سورج کی سطح پر موجود انتہائی گرم گیس کی مختلف تہیں مختلف رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔
Scientists have captured the highest-resolution video of the surface of the sun ever, showing turbulent, vortex-like structures in unprecedented detail. The “surface” of the sun is really an unstable, roiling soup of plasma, heated to about 10,000 degrees Fahrenheit.@azamshaam pic.twitter.com/6nnNKN8PiQ
— Media Talk (@mediatalk922) August 7, 2026
تحقیق کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہی گرداب سورج کے مقناطیسی میدان کو الجھانے اور اس میں توانائی جمع ہونے کا سبب بن سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں سورج پر طاقتور دھماکے اور شمسی طوفان پیدا ہوتے ہیں۔
ایسے شمسی طوفان اگر زمین کی سمت آئیں تو سیٹلائٹس، موبائل اور ریڈیو رابطے، جی پی ایس، انٹرنیٹ کے بعض نظام اور بجلی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئی تحقیق سے نہ صرف شمسی طوفانوں کی بہتر پیش گوئی ممکن ہو سکے گی بلکہ سورج کے بیرونی حصے کے انتہائی زیادہ درجہ حرارت کا معمہ حل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:اگلے ماہ سورج گرہن، 2 سال بعد آسمان پر نایاب نظارہ
سائنس دانوں کے مطابق یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن اس سے سورج کی ساخت اور اس کے رویے کو سمجھنے میں ایک اہم پیشرفت ہوئی ہے۔














