میر رضا علی قتل کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کا اعتراض، نئی کمیٹی مسترد کردی

جمعہ 7 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اور پولیس نے رات کی تاریکی میں میر رضا کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قائم کیے گئے میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو بغیر کسی وضاحت کے تبدیل کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں جبران ناصر نے کہا کہ نئی تشکیل کے بعد کراچی کی پولیس سرجن کو بورڈ میں اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس پر اہلخانہ کو شدید تحفظات ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیدرآباد کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے سیکریٹری صحت سندھ کی منظوری کے بغیر پہلے سے جاری کردہ حکم نامے کو تبدیل کیا، حالانکہ عدالتی حکم کے مطابق اس معاملے میں کراچی کی پولیس سرجن اور سیکریٹری صحت سندھ کو اختیار حاصل تھا۔

جبران ناصر کے مطابق نئی تشکیل کے نوٹیفکیشن میں سیکریٹری صحت سندھ کے کسی حکم یا منظوری کا ذکر موجود نہیں، اس لیے یہ نوٹیفکیشن قانونی اختیار سے محروم ہے اور کراچی پولیس سرجن پر لازم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے اہل خانہ نئے میڈیکل بورڈ کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ اسے قبر کشائی یا دوبارہ معائنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا، جبکہ نئے نوٹیفکیشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:میر رضا علی خان کیس: اسلحہ نہ ملنے اور فرانزک تضادات نے تحقیقات کو الجھا دیا

جبران ناصر نے مزید کہا کہ سندھ پولیس اور سندھ حکومت کے طرزِ عمل نے ایسے سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آخر میر رضا کی موت کی تحقیقات میں کن بااثر افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp