وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت اور پولیس نے رات کی تاریکی میں میر رضا کی قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے قائم کیے گئے میڈیکل بورڈ کے تمام ارکان کو بغیر کسی وضاحت کے تبدیل کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں:میر رضا علی قتل یا خودکشی؟ آخری 48 گھنٹوں میں کیا ہوا، ٹائم لائن نے کیس کے کئی راز بے نقاب کر دیے
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں جبران ناصر نے کہا کہ نئی تشکیل کے بعد کراچی کی پولیس سرجن کو بورڈ میں اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس پر اہلخانہ کو شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حیدرآباد کے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے سیکریٹری صحت سندھ کی منظوری کے بغیر پہلے سے جاری کردہ حکم نامے کو تبدیل کیا، حالانکہ عدالتی حکم کے مطابق اس معاملے میں کراچی کی پولیس سرجن اور سیکریٹری صحت سندھ کو اختیار حاصل تھا۔
The family expresses no consent for this new board and will not allow it to exhumate the body tomorrow morning and corrupt whatever evidence remains and it will be formally communicated to authorities. This new notification will also be challenged before appropriate forum… P4
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) August 6, 2026
جبران ناصر کے مطابق نئی تشکیل کے نوٹیفکیشن میں سیکریٹری صحت سندھ کے کسی حکم یا منظوری کا ذکر موجود نہیں، اس لیے یہ نوٹیفکیشن قانونی اختیار سے محروم ہے اور کراچی پولیس سرجن پر لازم نہیں۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کے اہل خانہ نئے میڈیکل بورڈ کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ اسے قبر کشائی یا دوبارہ معائنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اس حوالے سے متعلقہ حکام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا، جبکہ نئے نوٹیفکیشن کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:میر رضا علی خان کیس: اسلحہ نہ ملنے اور فرانزک تضادات نے تحقیقات کو الجھا دیا
جبران ناصر نے مزید کہا کہ سندھ پولیس اور سندھ حکومت کے طرزِ عمل نے ایسے سوالات پیدا کر دیے ہیں کہ آخر میر رضا کی موت کی تحقیقات میں کن بااثر افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔














