جاپانی پولیس نے ایک 32 سالہ ریستوران ورکر، مایو یوشیدا کو مشہور اینیمی اور مانگا سیریز ‘ون پیس’ (ONE PIECE) سے متعلق ہزاروں پروڈکٹس کے جعلی آرڈر دینے اور بعد ازاں انہیں کینسل کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا ہے۔ اس حرکت سے جاپان کے معروف اشاعتی ادارے ‘شویئشا’ (Shueisha) کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آرڈرز کی منسوخی کا انوکھا طریقہ
جاپانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ نے 2,000 سے زائد ایسے آرڈرز دیے جن کی ادائیگی یا وصولی کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا، اور اس مقصد کے لیے اس نے 238 مختلف اکاؤنٹس استعمال کیے۔
پولیس تفتیش کے مطابق ملزمہ مختلف طریقوں سے آرڈرز منسوخ کراتی تھی۔ ملزمہ نے ‘کنوینینس سٹور’ کے ذریعے ادائیگی کا انتخاب کیا لیکن مقررہ مدت میں رقم ادا نہیں کی۔ اس طریقے سے کینسل کیے گئے سامان کی مالیت تقریباً 4.3 ارب ین (258 کروڑ روپے) بنتی ہے۔
ملزمہ نے 2,100 سے زائد آرڈرز کیش آن ڈیلیوری پر دیے اور پارسل پہنچنے پر لینے سے انکار کر دیا۔ کئی بار ملزمہ نے بالکل فرضی پتے درج کیے جس کے باعث سامان کی ترسیل ممکن ہی نہ ہو سکی۔
بار بار سامان کی منسوخی اور واپسی کے باعث ‘شویئشا’ کمپنی کو ڈیلیوری اور دیگر اخراجات کی مد میں تقریباً 75 لاکھ ین (تقریباً 45 لاکھ روپے) کا براہِ راست نقصان اٹھانا پڑا۔
آرڈر کرنے سے سکون ملتا تھا
ملزمہ نے پولیس کو بتایا کہ اسے اینیمی سے شدید لگاؤ تھا اور کریکٹرز کا سامان دیکھنا پسند تھا۔ اس نے اعتراف کیا’میری روزمرہ کی زندگی میں کافی تناؤ جمع ہو گیا تھا، اور جب میں کوئی پروڈکٹ آؤٹ آف سٹاک ہونے سے پہلے آرڈر کر لیتی تو مجھے شدید تسلی اور ذہنی سکون ملتا تھا۔‘
ملزمہ نے مزید کہا کہ اس کی کمپنی کے خلاف کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ رپورٹس کے مطابق اس نے چھ سال قبل اس آن لائن سٹور کا استعمال شروع کیا تھا اور ابتداء میں وہ سامان خریدتی بھی تھی، تاہم اکتوبر 2023 سے اس نے یہ جعلی آرڈرز اور منسوخی کا سلسلہ شروع کیا جو دو سال تک جاری رہا۔
یہ معاملہ ‘شویئشا’ کے جمپ کریکٹرز سٹور سے متعلق ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مسلسل دھوکہ دہی کے باعث طویل عرصے تک دیگر حقیقی گاہکوں کا حق متاثر ہوا اور وہ سامان خریدنے سے محروم رہے۔ کمپنی نے پولیس سے ملزمہ کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔
ملزمہ نے اپنے تمام الزامات کا اعتراف کر لیا ہے اور اس کے خلاف جاپانی قانون کے تحت دھوکہ دہی اور کاروبار میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔













