اسپیس ایکس کا اسٹارشپ فلائٹ 13 سمندر میں پھنس گیا، خراب موسم نے ریکوری مشن مشکل بنا دیا

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایلون مسک نے اسٹارشپ فلائٹ 13 کی سمندر سے بازیابی کو مشکل قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ اس مرحلے پر اس کی کامیابی کے امکانات زیادہ اچھے دکھائی نہیں دیتے۔

اسپیس ایکس کی ٹیمیں اسٹارشپ کے 52 میٹر بلند اوپری حصے کو بحرِ ہند سے کھینچ کر مغربی آسٹریلیا کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم سمندری حالات مسلسل خراب ہوتے جارہے ہیں۔

فلائٹ 13 کی کامیاب سمندری لینڈنگ کے تقریباً 2 ہفتے بعد بھی یہ خدشہ برقرار ہے کہ اسپیس ایکس کا یہ خلائی جہاز بالآخر سمندر ہی میں رہ جائے گا۔ ایلون مسک نے جمعہ کو کہا کہ بحرِ ہند سے اسٹارشپ کے اوپری حصے کو واپس لانا’اس وقت زیادہ اچھا نظر نہیں آرہا‘، حالانکہ لینڈنگ کے دوران الٹ جانے کے باوجود خلائی گاڑی مجموعی طور پر محفوظ رہی۔

یہ بھی پڑھیے ایلون مسک کے ’اسٹار شپ‘ کے خلا میں تباہ ہونے کی ویڈیو وائرل

فلائٹ 13 نے 24 جولائی کو جنوبی ٹیکساس کے اسٹار بیس سے پرواز کی تھی اور اسے اب تک کی اسٹارشپ کی بہترین آزمائشی پرواز قرار دیا گیا ہے۔

اسٹارشپ کے اوپری حصے، جسے شپ کہا جاتا ہے، نے مشن کے دوران 20 نئے اسٹارلنک وی 3 سیٹلائٹس خلا میں پہنچائے۔ یہ اپنی نوعیت کے پہلے سیٹلائٹس تھے۔ اس کے بعد شپ نے مغربی آسٹریلیا کے قریب سمندر میں نسبتاً نرم لینڈنگ کی۔

یہ پہلا موقع تھا جب اسٹارشپ کا اوپری حصہ سمندر میں اترنے کے بعد تباہ ہونے کے بجائے مکمل طور پر محفوظ رہا۔ اس کامیابی کو اسٹارشپ کی مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال خلائی گاڑی بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔

اسپیس ایکس کے مطابق ریکوری ٹیم کئی روز سے ’مشکل حالات اور مسلسل خراب ہوتے سمندری موسم‘کا سامنا کر رہی تھی۔

ایلون مسک کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں اسٹارشپ کی بازیابی کی کوشش کامیاب ہونے کے امکانات کم ہوگئے ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ سمندری حالات مزید خراب ہونے سے قبل انجینئرز ہیٹ شیلڈ اور ریپٹر انجنوں کے اہم حصوں کی قریب سے تصاویر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

اگر اسٹارشپ کی بازیابی ناکام بھی ہوجائے تو اسپیس ایکس کو مشن سے حاصل ہونے والے اہم تکنیکی ڈیٹا سے محروم نہیں ہونا پڑے گا۔

4 اگست کو کمپنی کی پہلی سہ ماہی آمدنی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا تھا کہ وہ اب اسٹارشپ کی ہیٹ شیلڈ سے متعلق مسئلے کو ’ حل شدہ‘تصور کرتے ہیں۔ اس سے قبل مسک ہیٹ شیلڈ کو اسٹارشپ کو مکمل طور پر قابلِ دوبارہ استعمال بنانے کی راہ میں درپیش سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے اسپیس ایکس کا اسٹار شپ مشن آخری لمحات میں موخر، وجہ کیا بنی؟

فلائٹ 13 کے بیرونی ڈھانچے سے حاصل کی گئی تفصیلی تصاویر اور دیگر معلومات کو مستقبل میں تیار کیے جانے والے اسٹارشپ خلائی جہازوں میں مزید بہتری اور اپ گریڈ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اسپیس ایکس نے فلائٹ 14 کی روانگی اگست کے آخر میں کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ایلون مسک کے مطابق یہ پہلا مشن ہوگا جس میں راکٹ عملی مدار تک پہنچنے کی کوشش کرے گا اور اس کے ساتھ باقاعدہ آپریشنز کے لیے تیار کیے گئے اسٹارلنک سیٹلائٹس بھی خلا میں بھیجے جائیں گے۔

کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال کے آخر تک لانچ ٹاور کے ذریعے اسٹارشپ کے بوسٹر اور شپ، دونوں مراحل کو پکڑنے کی کوشش کرے گی، جو اسٹارشپ پروگرام میں مکمل طور پر دوبارہ قابلِ استعمال خلائی نظام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp