وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کا اچانک دورہ کیا اور مسافروں کے امیگریشن پراسیس کا جائزہ لیا۔
وزیر داخلہ نے امیگریشن کاؤنٹرز کا معائنہ کیا اور متعلقہ عملے سے مسافروں کی امیگریشن کے عمل اور اس میں لگنے والے وقت کے بارے میں دریافت کیا۔
اس موقع پر محسن نقوی نے مسافروں سے بھی امیگریشن پراسیس کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور انتظار کے وقت کے بارے میں براہ راست معلومات لیں۔ بعض مسافروں نے بتایا کہ امیگریشن کے عمل میں تقریباً 30 منٹ لگ رہے ہیں اور انتظامات مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیے چین کی طرز پر اسلام آباد میں لا انفورسمنٹ انویسٹی گیشن سینٹر قائم ہوگا، محسن نقوی
مسافروں کی شکایات پر وزیر داخلہ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے امیگریشن کا عمل تیز کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ ایئرپورٹ پر تمام امیگریشن کاؤنٹرز کھلے رکھے جائیں تاکہ مسافروں کو غیر ضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔
وزیر داخلہ نے مسافروں کو یقین دہانی کرائی کہ امیگریشن کا عمل مزید تیز اور سہل بنایا جائے گا۔ تمام کاؤنٹرز فعال ہونے سے امیگریشن میں تاخیر کم ہوگی اور مسافروں کو بہتر سہولت میسر آئے گی۔
دورے کے دوران ایک مسافر نے وزیر داخلہ کو شکایت کی کہ ایک ایجنٹ نے اس سے رقم وصول کی ہے۔ محسن نقوی نے شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے معاملہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کے سپرد کردیا اور متعلقہ ایجنٹ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
وزیر داخلہ نے ایف آئی اے حکام کو واضح ہدایت کی کہ نامکمل سفری دستاویزات رکھنے والے کسی شخص کو ہرگز سفر کی اجازت نہ دی جائے، تاہم مکمل اور درست سفری دستاویزات رکھنے والے کسی مسافر کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیے تربت میں جدید ایف سی اسپتال کا افتتاح، مقامی آبادی بھی علاج کی سہولت سے مستفید ہوگی: محسن نقوی
محسن نقوی نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے امیگریشن کا عمل پہلے سے زیادہ آسان اور مؤثر ہوگیا ہے، جبکہ جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کردی گئی ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ امیگریشن کے عمل میں قانونی تقاضوں اور مسافروں کی سہولت کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے تاکہ درست سفری دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔













