میر رضا علی کیس: نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل، ایف آئی آر میں قتل کی دفعات شامل

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی میں 25 سالہ کاروباری نوجوان میر رضا علی کے قتل کے معاملے کی تحقیقات کے لیے نئی 5 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی، جبکہ والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں قتل کی دفعہ بھی شامل کرلی گئی۔

پولیس کے مطابق میر رضا علی کی لاش 29 جولائی کو کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں جھاڑیوں سے ملی تھی۔ وہ ایک روز قبل 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے۔ اہلخانہ کا مؤقف تھا کہ انہیں اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا، تاہم ابتدائی طور پر پولیس ان کی موت کو خودکشی کے امکان کے طور پر بھی دیکھ رہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی کیس: پولیس تفتیش کے بجائے خاندان کو ہراساں کررہی ہے، وکیل نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا

 انسپکٹر جنرل سندھ  پولیس کے دفتر سے اتوار کو جاری حکمنامے کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم میر رضا علی کے دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کی روشنی میں تشکیل دی گئی، جس کے نتائج پہلی رپورٹ سے مختلف تھے۔

مقدمے میں پہلے صرف تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 365 شامل تھی جو اغوا سے متعلق ہے، تاہم اب دفعہ 302 قتل اور دفعہ 201 شواہد چھپانے یا ملزم کو بچانے کے لیے غلط معلومات فراہم کرنے کے الزام میں شامل کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی کیس: قبر کشائی کے بعد پوسٹ مارٹم مکمل، ڈی این اے نمونے لیبارٹری ارسال، مبینہ آڈیو بھی وائرل

نئی 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی سندھ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل جرائم و تفتیش امیر فاروقی کریں گے۔ ٹیم میں ایس ایس پی الفلاح سید محمد علی رضا، ایس پی تفتیش کورنگی قیس خان، ایس پی تفتیش وسطی انعم تجمل اور زمان ٹاؤن کے تفتیشی افسر چوہدری غضنفر شامل ہیں۔

حکمنامے میں تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کیس کے تمام پہلوؤں سے جامع اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے، نئے شواہد تلاش کرکے محفوظ کرے اور جسمانی، تکنیکی، حالات و واقعات اور فرانزک شواہد کا تفصیلی جائزہ لے۔ ٹیم کو مقررہ مدت میں عدالت میں رپورٹ پیش کرنے اور روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

دوسرے پوسٹ مارٹم میں اہم انکشافات

میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے گزشتہ روز مطالبہ کیا تھا کہ کیس کی ابتدائی تفتیشی ٹیم کو تبدیل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبر کشائی کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم میں انکشاف ہوا کہ میر رضا علی کو کمر میں گولی لگی تھی، جس سے خودکشی کا امکان ختم ہوگیا۔

جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ میر رضا علی کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔ ان کے مطابق اہلخانہ کو پولیس کی سابقہ تحقیقاتی ٹیم پر اعتماد نہیں تھا۔

میر رضا علی ادارہ برائے انتظامی امور کے فارغ التحصیل اور کھانے پینے کے کاروبار کے مالک تھے۔ وہ 28 جولائی کو لاپتا ہوئے اور اگلے روز ان کی لاش گلستانِ جوہر میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: میر رضا علی قتل کیس: میڈیکل بورڈ کی تبدیلی پر اہلخانہ کا اعتراض، نئی کمیٹی مسترد کردی

دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد کراچی پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ جسم سے شناخت، کیمیائی تجزیے اور گولی کے ذرات کی جانچ کے لیے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، جبکہ موت کی حتمی وجہ لیبارٹری رپورٹس آنے کے بعد بتائی جائے گی۔

ان کے مطابق جسم کے سر اور چہرے پر متعدد زخم پائے گئے، جبکہ کمر کی پسلی میں فریکچر بھی تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گولی کمر سے داخل ہوکر جسم کے اگلے حصے سے باہر نکلی تھی۔ جسم کے دائیں پہلو اور پاؤں پر بھی زخم پائے گئے، جبکہ منہ اور گلے میں جما ہوا سیاہ مادہ موجود تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp