مکہ دفاعی معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور نئی علاقائی شراکت داری کی بنیاد ہے، چوہدری طارق فاروق

اتوار 9 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری جنرل اور نومنتخب ممبر اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا تاریخی دفاعی معاہدہ محض تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتہ نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتِ حال میں ایک اہم اور دور رس پیش رفت ہے۔ دفاعی، سفارتی، سیاسی، معاشی اور علاقائی استحکام، ہر زاویے سے دیکھا جائے تو یہ معاہدہ ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ اس معاہدے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ تینوں ممالک نے باہمی دفاع اور سلامتی کو ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ یہ اصول اجتماعی سلامتی کے ایک مضبوط تصور کو جنم دیتا ہے اور خطے میں کسی بھی جارحانہ مہم جوئی کے خلاف ایک مؤثر روک تھام پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ مشترکہ سلامتی اور دفاعی تعاون کے لیے ہے۔

’پاکستان نے طاقت کے بجائے سفارت کاری، مکالمے اور مصالحت کو ترجیح دی‘

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ اس پیش رفت کی اہمیت کو موجودہ علاقائی حالات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا ایران جنگ کے نازک ماحول میں پاکستان نے سفارت کاری، مکالمے اور مصالحت کو ترجیح دی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے غیر معمولی سفارتی کوششیں کیں۔

’فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ان کی ٹیم نے بھی اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ اپریل میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ سطحی مذاکرات کا انعقاد بھی پاکستان کی اس سفارتی کوشش کا نمایاں مظہر تھا۔‘

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ پاکستان کی یہ پالیسی محض کسی ایک فریق کی حمایت نہیں بلکہ خطے میں پائیدار امن، خودمختاری، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں معاون بنی ہے۔

’سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کا نیا علاقائی فریم ورک اہم علامت ہے‘

چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات ہمیشہ یکساں نوعیت کے نہیں رہے۔ تاریخی، علاقائی اور سیاسی عوامل کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں مختلف ادوار میں قربت اور کشیدگی دونوں دیکھنے میں آئی۔

انہوں نے کہاکہ آج ان دونوں اہم مسلم ممالک کا پاکستان کے ساتھ مل کر علاقائی سلامتی کے ایک نئے فریم ورک کی تشکیل میں شریک ہونا بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کی اہم علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت ایک اہم سفارتی اور دفاعی کامیابی بھی ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں بلکہ پاکستان کی ایک ایسے ملک کے طور پر اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے جو دفاعی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی اور مصالحتی کردار ادا کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون اور ترکیہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی عسکری روابط میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

’آزاد کشمیر کے عوام کی جانب سے تینوں ممالک کی قیادت کو مبارکباد‘

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ہم آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کو اس تاریخی پیش رفت پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے بالخصوص وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور صدر جمہوریہ ترکیہ رجب طیب اردوان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے وقت میں باہمی تعاون اور اجتماعی سلامتی کی بنیاد مضبوط کی ہے جب پوری دنیا کو تصادم کے بجائے مکالمے، تقسیم کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کی ضرورت ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ہمیں امید ہے کہ یہ شراکت داری مستقبل میں مزید وسیع ہوگی اور دوسرے ممالک بھی اس امن و سلامتی کے فریم ورک کا حصہ بنیں گے۔ معاہدے کے حوالے سے ترکی کی جانب سے یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ دیگر ممالک مستقبل میں اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

’مشترکہ تعاون مسلم دنیا میں اتحاد اور باہمی اعتماد کا ذریعہ بنے‘

انہوں نے کہاکہ ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان یہ بڑھتا ہوا تعاون مسلم دنیا میں اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔ تاہم اس اتحاد کی اصل طاقت کسی کے خلاف محاذ آرائی میں نہیں بلکہ امن، استحکام، اقتصادی ترقی، انسانی بہبود اور پرامن بقائے باہمی کے فروغ میں ہونی چاہیے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ ہم خصوصاً یہ توقع رکھتے ہیں کہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کی مشترکہ سفارتی قوت مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے عالمی سطح پر مؤثر آواز بنے گی۔

انہوں نے کہاکہ سعودی عرب کا اس سلسلے میں کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی باہمی شراکت داری اس مسئلے کو مزید مؤثر سفارتی انداز میں اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

’اتحاد امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے ہے‘

چوہدری طارق فاروق نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کو تدبر، بصیرت، حوصلہ اور استقامت عطا فرمائے، تاکہ یہ تاریخی شراکت داری صرف تین ممالک کے دفاع تک محدود نہ رہے بلکہ مسلم دنیا اور پوری انسانیت کے لیے امن، استحکام، ترقی اور باہمی احترام کی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد کسی کے خلاف نہیں بلکہ امن، استحکام اور اجتماعی سلامتی کے لیے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان کے ضلع سوراب میں امن و امان کے خدشات پر 15 اگست تک کرفیو نافذ

امریکا ایران سے محدود سطح پر مذاکرات کررہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران پبلک سروس کمیشن کے 7 ارکان کی تقرری، اپوزیشن کا اعتراض

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت کا تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ

مکہ دفاعی معاہدے کی خوشی میں اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں شاندار آتش بازی، عوام کا جوش و خروش

ویڈیو

’اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے چنا ہے‘، مکہ دفاعی معاہدے پر اراکین پارلیمنٹ کا اظہار خیال

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

سب گل سڑ چکا ہے

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار