اس وقت آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ ایک منصب نہیں، کڑا امتحان ہے، چوہدری طارق فاروق

پیر 10 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر کے سیکریٹری جنرل اور نو منتخب ممبر آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی حلقہ ایل اے 7 بھمبر 3 چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ اس وقت آزاد جموں و کشمیر کی وزارت عظمیٰ محض ایک منصب یا اعزاز نہیں بلکہ ایک کڑا امتحان ہے، موجودہ حالات میں اس عہدے کی ذمہ داریاں غیر معمولی اہمیت کی حامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کے متوقع امیدواروں سے زیادہ ان کے چاہنے والے اور حسنِ ظن رکھنے والے احباب سوشل میڈیا پر اپنی اپنی خواہشات اور آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایک جمہوری معاشرے میں یہ ایک فطری اور مثبت عمل ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس منصب کو محض اقتدار یا اعزاز سمجھنا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہوگا۔

آزاد کشمیر کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا

ان کا کہنا تھا کہ آج آزاد جموں و کشمیر کو امن عامہ، سیاسی استحکام، مؤثر گورننس، معاشی مشکلات، ادارہ جاتی اصلاحات اور معیاری ترقی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ انتخابات کے انعقاد اور آئندہ سیاسی منظرنامے کے حوالے سے مختلف امکانات زیر بحث ہیں اور ہر سیاسی جماعت اپنی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں موجود ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے سیاسی بیانیے

انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی اپنی سیاسی و انتظامی قوت اور موجودہ عوامی فضا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنے ترقیاتی بیانیے، پنجاب ماڈل گورننس، انتظامی اصلاحات اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد پر عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حقیقی چیلنج انتخابات جیتنا نہیں بلکہ انتخابات کے بعد عوام کا اعتماد بحال کرنا اور ریاستی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا۔

سیاسی قیادت، ادارہ جاتی استحکام اور وفاقی حکومت سے رابطہ ناگزیر

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ اس مقصد کے لیے مضبوط سیاسی قیادت کے ساتھ ادارہ جاتی استحکام، سیاسی رواداری، باہمی مشاورت اور پاکستان کی وفاقی حکومت و قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مؤثر اور مسلسل رابطہ ناگزیر ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ آزاد جموں و کشمیر کی مخصوص آئینی، سیاسی اور جغرافیائی حیثیت اس امر کی متقاضی ہے کہ فیصلے جذبات کے بجائے تدبر، تصادم کے بجائے مکالمے اور وقتی مفادات کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کے تحت کیے جائیں۔

مسلم لیگ ن میں تجربہ کار قیادت موجود ہے

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں و کشمیر میں تجربہ کار اور پختہ کار سیاسی قیادت موجود ہے اور سب اپنی ذمہ داریوں اور موجودہ حالات کی نزاکت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ جماعتی فیصلے فرد کی خواہش نہیں بلکہ جماعت، عوام اور ریاست کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر کیے جاتے ہیں۔ حتمی فیصلہ قائدِ محترم میاں محمد نواز شریف کی سیاسی بصیرت، تدبر اور اعلیٰ جماعتی لیڈرشپ سے باہمی مشاورت سے ہوگا۔

نواز شریف کی آزاد کشمیر انتخابات میں غیر معمولی دلچسپی

انہوں نے کہاکہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ انتخابات میں غیر معمولی دلچسپی اس امر کی عکاس ہے کہ وہ یہاں محض سیاسی کامیابی نہیں بلکہ امن، سیاسی رواداری، اتحاد، خوشحالی اور پائیدار استحکام دیکھنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پونچھ کے موجودہ حالات کا پُرامن، سیاسی اور دانشمندانہ حل بھی اسی وسیع تر سوچ کا تقاضا ہے۔

نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟

چوہدری طارق فاروق نے کہاکہ انتخابات کے بعد جو حکومت بھی قائم ہو، اس کی اولین ترجیح عوام کے اعتماد کی بحالی، گورننس میں بہتری، انتظامی و ادارہ جاتی اصلاحات، میرٹ و شفافیت کا فروغ اور ترقیاتی عمل کو حقیقی معنوں میں عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا ہونی چاہیے۔

کشمیریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا ضروری

انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر کے تاریخی، آئینی اور نظریاتی رشتے کو مزید مضبوط کرنا، جبکہ بیرون ملک اور پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد کشمیریوں کو بہتر سہولتیں اور ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار کے مواقع فراہم کرنا بھی ہماری اجتماعی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔

چوہدری طارق فاروق نے مزید کہاکہ انشااللہ، آزاد جموں و کشمیر ایک مضبوط، مستحکم، پُرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp