پاکستان میں شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدوروں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں جہاں انہیں ایک طرف 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرتے درجہ حرارت کا سامنا ہے تو دوسری جانب ہزار ڈگری سے زیادہ درجہ حرارت پر دہکتے بھٹوں کے قریب گھنٹوں کام کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان کے مزدور گرمیوں میں بارش کے بجائے دھوپ کی دعا کیوں مانگتے ہیں؟
اے ایف پی نے اپنی رپورٹ میں پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے مزدوروں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اینٹوں کے ایک روایتی بھٹے پر مزدور اپنے قدموں کے نیچے موجود سوراخوں کے ذریعے کوئلہ دہکتے ہوئے حصوں میں ڈالتے ہیں جبکہ بھٹوں کی چمنیوں سے دھویں کے سیاہ بادل آسمان کی طرف بلند ہوتے رہتے ہیں۔
روایتی اینٹوں کے بھٹے ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر جلتے ہیں اور انہیں مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ درجہ حرارت برقرار رہے۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان میں گرمی کی شدت میں اضافے نے پہلے ہی انتہائی مشکل سمجھے جانے والے اس کام کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔
35 سالہ مزدور عابد حسین جن کے کپڑے کالک سے اٹے ہوئے تھے نے بتایا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ نیچے آگ اور اوپر بڑھتی ہوئی گرمی کے درمیان پھنسے ہوئے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرمی بلاشبہ انتہائی شدید ہے لیکن گھر کے مالی مسائل کو دیکھتے ہوئے یہ کام چھوڑنا ممکن نہیں۔
پاکستان میں تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث اینٹوں کی طلب بھی بڑھ رہی ہے جبکہ اس شعبے سے وابستہ مزدوروں کی یومیہ آمدن تقریباً 3 ڈالر کے برابر بتائی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: اسلام آباد کو فضائی آلودگی سے بچانے کے لیے ’زگ زیگ ٹیکنالوجی‘ کا استعمال
شدید دھوپ اور فضا میں موجود گردوغبار کے باوجود مزدور گھنٹوں گرم بھٹے کی سطح پر کام کرتے رہتے ہیں۔
’یہ بھٹے مزدوروں کے لیے قید خانوں جیسے ہیں‘
پاکستان میں بانڈڈ لیبر لبریشن فرنٹ کی جنرل سیکریٹری سیدہ غلام فاطمہ نے کہا کہ اینٹوں کے بھٹے مزدوروں کے لیے قید خانوں جیسے ہیں۔
ان کے مطابق مزدوروں کو ایک طرف اوپر سے سورج کی بے رحم گرمی برداشت کرنا پڑتی ہے جبکہ دوسری جانب بھٹے سے اٹھنے والی شدید تپش ان کے جسموں تک پہنچتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے مزدور قرض، شدید گرمی اور بگڑتی ہوئی صحت کے ایک ایسے چکر میں پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنا ان کے لیے آسان نہیں جبکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے نے ان خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ملک میں اینٹوں کے کتنے بھٹے، مزدور ہیں؟
سنہ2018 کی ایک رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان بھر میں 18 ہزار سے زیادہ اینٹوں کے بھٹے موجود تھے جہاں 10 لاکھ سے زیادہ افراد کام کرتے تھے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
سیدہ غلام فاطمہ کے مطابق بہت سے مزدوروں کو کام شروع کرنے سے پہلے پیشگی رقم دی جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ قرض کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور خطرناک حالات میں کام سے انکار کرنا ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسموگ فری پنجاب: ’ایک حکومت، ایک وژن، ایک مشن، صاف فضا‘
عابد حسین نے بتایا کہ وہ تقریباً 25 ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں جو گھر کا کرایہ اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بمشکل کافی ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاہے وہ بیمار ہوں یا گھر میں کوئی مسئلہ درپیش ہو انہیں کام پر آنا ہی پڑتا ہے کیونکہ چھٹی کرنے کی صورت میں ان کا گھر مشکل میں پڑ جائے گا۔
’وقفہ لینا ممکن نہیں‘
ان حالات کے باوجود پنجاب حکومت کی جانب سے اینٹوں کے بھٹوں کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کی کوششوں سے بہتری کی کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔
حکومت روایتی بھٹوں کی جگہ ’زگ زیگ‘ ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر زور دے رہی ہے جس سے فضائی آلودگی اور سانس کی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ خاص طور پر روایتی بھٹوں پر طویل عرصے تک شدید گرمی میں کام کرنے والے مزدور جلدی بیماریوں، سانس کے مسائل اور گردوں کی بیماریوں سمیت مختلف طبی مسائل کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔
بھٹے کے 45 سالہ نگران مجیب اللہ نے بتایا کہ مزدوروں کے لیے طویل وقفے دینا ممکن نہیں کیونکہ بھٹے کا درجہ حرارت مسلسل ایک خاص سطح پر برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
ان کے مطابق موسم شدید گرم ہو، سردی ہو یا بارش کام کو مسلسل جاری رکھنا پڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ مزدوروں کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار مختصر وقفہ بھی دیا جاتا ہے۔
بھٹے کے ایک دوسرے حصے میں ایک مزدور کچی اینٹوں کی قطاروں کے قریب بیٹھ کر گیلی مٹی تیار کر رہا تھا اور اسے ہاتھ سے لکڑی کے سانچے میں بھر رہا تھا۔ شدید گرمی میں یہ کام بھی انتہائی مشقت طلب تھا۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب: تاریخ میں پہلی بار اینٹوں کے بھٹوں کی ماحولیاتی کمپلائنس رپورٹ جاری
28 سالہ مزدور محمد عظیم نے بھی اپنے حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موسم اچھا ہو یا خراب کام تو کام ہے کرنا ہی پڑتا ہے۔














