پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ خوریف نے کہا ہے کہ روس اور پاکستان ماسکو سے فیصل آباد اور ماسکو سے کراچی کے درمیان دونوں سمتوں میں پہلی مال بردار ریل سروس شروع کرنے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ اس منصوبے میں بیلاروس کی شمولیت کے امکان پر بھی غور کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، تہران، استنبول ٹرین سروس جلد بحال کرنے پر اتفاق
روسی اخبار ازویستیا کو انٹرویو دیتے ہوئے البرٹ خوریف نے بتایا کہ اس منصوبے پر 2025 اور 2026 کے اوائل میں خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث کئی مرتبہ عمل درآمد مؤخر کرنا پڑا۔

روسی سفیر کے مطابق اس وقت دونوں ممالک مال برداری سے متعلق خدمات کے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں، جبکہ مجوزہ ریل راستے میں شامل ممالک میں ایسی کمپنیوں کی نشاندہی بھی کی جارہی ہے جو اس ذریعے سے اپنے تجارتی سامان کی ترسیل میں دلچسپی رکھتی ہوں۔
روسی اخبار ’’ازویستیا‘‘ کے ساتھ سفیر البرٹ خوریف کی گفتگو
8 )اگست 2026(سوال: کیا روس اور پاکستان منسک–ماسکو–کراچی راہداری کے ذریعے مال بردار ریل سروس کے پائلٹ پروگرام کےآغاز پر کام کر رہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس منصوبے پر اس وقت پیش رفت کس مرحلے میں ہے؟
البرٹ خوریف: ہم اپنے… pic.twitter.com/JUqXlcLi1Y
— Embassy of Russia in Pakistan (@RusEmbPakistan) August 10, 2026
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی تجارتی تاریخ میں اہم سنگ میل: لاہور سے روس تک پہلی فریٹ ٹرین 22 جون کو روانہ ہوگی
البرٹ خوریف نے کہا کہ منصوبے کے تحت ماسکو، فیصل آباد اور کراچی کے درمیان مال بردار ریل رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ بیلاروس کو بھی اس راہداری میں شامل کرنے کے امکان کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فریقین کی جانب سے منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے ضروری تجارتی اور انتظامی معاملات پر کام جاری ہے۔














