سابق اولمپیئن اور 1994 کے عالمی کپ میں طلائی تمغہ جیتنے والی پاکستان ہاکی ٹیم کے رکن رحیم خان نے عالمی کپ میں پاکستان کی کامیابی کے امکانات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم نے بڑے مقابلے کے لیے مطلوبہ تیاری نہیں کی۔
رحیم خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ورلڈ کپ 2026 میں پاکستان کی جانب سے کسی بڑی کامیابی کے لیے زیادہ پُرامید نہیں ہیں، کیونکہ ٹیم نے عالمی کپ سے قبل اس انداز میں تیاری نہیں کی جس کی ضرورت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی ہاکی ٹیم نے پہلے ٹیسٹ میچ میں جنوبی کوریا کو 1-3 سے شکست دے دی
انہوں نے کہا کہ عالمی کپ سے پہلے جنوبی کوریا جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے خلاف سیریز کھیلنے کے بجائے پاکستان کو کسی مضبوط حریف کے خلاف سیریز کھیلنی چاہیے تھی تاکہ ٹیم کو بڑے مقابلوں کے لیے بہتر تیاری کا موقع ملتا۔
سابق اولمپیئن نے غیرملکی کوچنگ عملے کو قومی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کے لیے کم وقت ملنے پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف حریفوں کے خلاف الگ حکمت عملی درکار ہوتی ہے اور اس کے لیے بھرپور تیاری اور منصوبہ بندی ضروری ہے، تاہم عالمی کپ شروع ہونے میں اب صرف 4 روز باقی رہ گئے ہیں، اس لیے وہ قومی ٹیم کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔
رحیم خان نے کہا کہ اگر کوچنگ عملہ مخالف ٹیموں کے دفاع کو توڑنے اور حملوں کو مؤثر انداز میں ترتیب دینے کے حوالے سے کھلاڑیوں کو واضح حکمت عملی فراہم کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پاکستان کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’میری وفاداری عہدے سے نہیں پاکستان سے ہے‘، قومی ہاکی ٹیم کی کپتانی سے ہٹائے جانے پر عماد بٹ کا ردعمل
انہوں نے پاکستان کے گروپ میچز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی ٹیم کو ویلز کے خلاف کامیابی حاصل کرنی چاہیے، تاہم بھارت اور انگلینڈ کے خلاف مقابلے سخت ہوں گے۔ ان کے مطابق بھارت کاغذ پر مضبوط ٹیم ہے جبکہ انگلینڈ کو شکست دینا بھی آسان نہیں ہوگا۔
سابق اولمپیئن نے قومی ٹیم کے دفاعی مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ حال ہی میں ختم ہونے والی ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پاکستان نے بہت زیادہ گولز ضائع کیے۔ عالمی کپ میں مضبوط ٹیموں کے خلاف کمزور دفاع قومی ٹیم پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔
پاکستان 2018 کے بعد پہلی مرتبہ عالمی کپ میں شرکت کر رہا ہے۔ چار مرتبہ عالمی چیمپئن رہنے والی پاکستانی ٹیم عالمی کپ کے گروپ ڈی میں بھارت، انگلینڈ اور ویلز کے ساتھ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم آج پاکستان پہنچے گی، 4 بین الاقوامی ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے
پاکستان عالمی کپ میں اپنی مہم کا آغاز 15 اگست کو انگلینڈ کے خلاف کرے گا، جبکہ 17 اگست کو بھارت اور 19 اگست کو ویلز کے خلاف میدان میں اترے گا۔ حالیہ پرو لیگ میں انگلینڈ اور بھارت نے پاکستان کو دو، دو مرتبہ شکست دی تھی، جبکہ قومی ٹیم ٹورنامنٹ میں ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تھی۔
پاکستان نے رواں سال مصر میں ہونے والے عالمی کپ کے کوالیفائنگ مقابلے میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے عالمی کپ کے لیے جگہ بنائی تھی۔ قومی ٹیم کی کوچنگ نیدرلینڈز کے باب یوہان ویلڈہوف کریں گے، جبکہ برطانیہ کے کرسٹوفر جان بوون اور عدنان ذاکر معاون کوچز کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
پاکستان کو عالمی کپ میں آگے بڑھنے کے لیے دفاعی کارکردگی، گول کیپنگ اور پنالٹی کارنر کے مواقع سے فائدہ اٹھانے سمیت کئی شعبوں میں نمایاں بہتری لانا ہوگی۔














