جامشورو میں مانجھند تحصیل کے علاقے کھاسائی میں ایلیمنٹری اسکول کی تعمیر میں مبینہ رکاوٹوں، بچوں اور اساتذہ کو ہراساں کرنے اور اسکول بند کرانے کی کوششوں کے خلاف پرنسپل بینظیر راجڑ نے عدالت سے رجوع کرلیا۔
مزید پڑھیں:’کتاب اور گلاب چرانے کو کبھی چوری نہیں سمجھا‘، وزیر تعلیم سندھ کا دلچسپ انکشاف
بینظیر راجڑ نے سپریم کورٹ کے وکیل آغا کاشف حسین کے توسط سے جامشورو کی عدالت میں درخواست دائر کی۔ ان کے مطابق اسکول میں قریباً 250 بچے زیرِ تعلیم ہیں، تاہم بعض بااثر افراد مبینہ طور پر اسکول کی تعمیر اور تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔
جامشورو: مانجھند تحصیل کے علاقے کھاسائی میں ایلیمنٹری اسکول کی عمارت کی تعمیر میں مبینہ رکاوٹیں ڈالنے، بچوں اور اساتذہ کو ہراساں کرنے اور اسکول بند کرانے کی کوششوں کے خلاف تعلیم کے لیے سرگرم پرنسپل بینظیر راجڑ نے عدالت سے رجوع کرلیا۔@MuradAliShahPPP @MinisterEduGos @sardarshah1 pic.twitter.com/4zQfm4XQG9
— Media Talk (@mediatalk922) August 11, 2026
پرنسپل نے الزام عائد کیا کہ اسکول پر وقتاً فوقتاً حملے اور توڑ پھوڑ کی گئی، سولر سسٹم اور اسکول کا ریکارڈ بھی مبینہ طور پر اٹھا لیا گیا، جبکہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی عناصر کی مبینہ حمایت کے باعث صورتحال مزید سنگین ہے۔
بینظیر راجڑ کے مطابق مسلسل دھمکیوں اور خوف کے باعث کئی بچوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جامشورو کو بھی درخواستیں دی گئیں، تاہم تاحال خاطر خواہ کارروائی نہیں ہوئی۔
مزید پڑھیں:محکمہ تعلیم سندھ نے پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی کا مسودہ منظور کرلیا
انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتظامیہ اور پولیس اسکول، بچوں اور اساتذہ کو تحفظ فراہم کریں، مبینہ دھمکیوں اور ہراساں کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں اور قریباً 250 بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جائے۔














