عمران خان کی صحت کا معاملہ پھر زیر بحث: تحریک انصاف کا مطالبہ اور حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

بدھ 12 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی صحت، بالخصوص ان کی بینائی سے متعلق ان کے اہلخانہ اور پارٹی رہنماؤں کی جانب سے ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت سنجیدہ معاملہ، اسپتال منتقل کیا جائے، بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی رہنماؤں اور عمران خان کے اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے ذاتی معالجین سے ملاقات اور طبی معائنہ کرانے کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کی حقیقت واضح ہوسکے۔

دوسری جانب حکومت نے عمران خان کی صحت سے متعلق تمام خدشات اور افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صحت مند ہیں اور جیل میں انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ پارٹی یہ دعویٰ نہیں کر رہی کہ عمران خان کی جیل میں طبیعت لازماً خراب ہے تاہم میڈیا پر ان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف بیانات کے پیشِ نظر حکومت کو چاہیے کہ صورتحال کی باقاعدہ تصدیق کرائے اور اس عمل میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔

علی محمد خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ کسی سیاسی شخصیت کو جیل بھیجنے یا کسی مخصوص رہنما کو عمران خان سے ملاقات کرانے تک محدود نہیں بلکہ پارٹی صرف یہ چاہتی ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ ایک مرتبہ ان کا مکمل طبی معائنہ کرسکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ذاتی معالج کے معائنے کے بعد پارٹی اور اہلخانہ بھی عمران خان کی صحت کے بارے میں مطمئن ہوسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی اور نہ ہی عمران خان کی صحت کو کسی احتجاج یا سیاسی سرگرمی کے لیے بنیاد بنانا مقصود ہے۔

علی محمد خان نے کہا کہ پارٹی کی سوچ واضح ہے کہ اگر عمران خان کی زندگی ہے تو ہی ہماری سیاست ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نعیم حیدر پنجوتھہ نے عمران خان کی بینائی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی ایک آنکھ کی بینائی تقریباً 80 فیصد متاثر ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیے: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے درمیان ملاقات کرا دی گئی، صحت اور زیر سماعت مقدمات پر تبادلہ خیال

انہوں نے کہا کہ یہ معلومات انہیں عمران خان سے آخری مرتبہ ملاقات کرنے والے وکیل سلمان صفدر نے دیں جن کے مطابق عمران خان نے انہیں (سلمان صفدر) بتایا کہ ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی نشاندہی کی ہے۔

نعیم حیدر پنجوتھہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان کی آنکھوں اور مجموعی صحت کا آزادانہ طور پر جائزہ لیا جاسکے اور حقائق سامنے آسکیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں اور افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں۔ انہوں نے عمران خان کی بینائی اور نظر سے متعلق مخالفین کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے انہیں محض پروپیگنڈا قرار دیا۔

عظمیٰ بخاری کے مطابق جیل میں عمران خان کو ورزش کے لیے ضروری سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں اور ان کے لیے آئرن راڈز، اسٹریچنگ بینڈز اور سائیکلنگ مشین سمیت ورزش کا سامان موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کھانے کا انتظام بھی ان کی مرضی اور پسند کے مطابق کیا جاتا ہے اور انہیں جیل میں بنیادی ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے بھی عمران خان کی صحت سے متعلق تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق عمران خان کو جیل میں اچھے ڈاکٹروں کی سہولت حاصل ہے، جو مختلف اوقات میں ان کا طبی معائنہ کرتے رہتے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اگر ڈاکٹر کسی طبی طریقہ کار یا علاج کی تجویز دیتے ہیں تو اسے فوری طور پر فراہم کیا جاتا ہے اس لیے پی ٹی آئی کو عمران خان کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت عمران خان کی صحت یا علاج کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں کرے گی۔

وفاقی وزیر نے پی ٹی آئی کو یہ بھی مشورہ دیا کہ عمران خان کی صحت کو بنیاد بنا کر سڑکوں پر احتجاج اور تصادم کی سیاست سے گریز کیا جائے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کا ردعمل

انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال کا فائدہ پاکستان کو نہیں بلکہ ان عناصر کو ہوگا جو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

احسن اقبال نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ احتجاج اور تخریب کاری کے بجائے ملکی معیشت، برآمدات اور پاکستان کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

دوسری جانب اڈیالہ جیل کے ذرائع کے مطابق عمران خان کی صحت اور بینائی ٹھیک ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں جب عمران خان کی آنکھوں سے متعلق شکایت سامنے آئی تھی تب ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا تھا اور آنکھوں کے علاج کے لیے ضروری طبی سہولت بھی فراہم کی گئی تھی۔

جیل ذرائع کے مطابق اس کے بعد بھی عمران خان کی آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جا رہا ہے اور ڈاکٹرز ان کی حالت اور فراہم کیے جانے والے علاج سے مطمئن ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ علاج کے نتیجے میں عمران خان کی بینائی میں مطلوبہ بہتری بھی آئی ہے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے حکومت کے مؤقف کو مسترد کیا جا رہا ہے اور پارٹی کا بنیادی مطالبہ یہی سامنے آ رہا ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ذاتی ڈاکٹر کے معائنے سے نہ صرف عمران خان کی صحت کے بارے میں پائے جانے والے خدشات دور ہوں گے بلکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اس معاملے پر پیدا ہونے والا تنازع بھی ختم ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: عمران خان رہائی فورس ہر صورت بنے گی، صحت سے متعلق فیصلے فیملی کرے گی، شفیع جان

یوں عمران خان کی صحت اور بینائی کا معاملہ ایک مرتبہ پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی رہنما اور اہلخانہ طبی معائنے کے لیے ذاتی معالج تک رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ حکومت اور جیل حکام کا مؤقف ہے کہ عمران خان صحت مند ہیں اور ان کا طبی معائنہ باقاعدگی سے کیا جا رہا ہے اور انہیں ضرورت کے مطابق علاج اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عالمی سطح پر غذائی مہنگائی بڑھنے کا خدشہ، پاکستان بھی متاثر ہوگا، اسٹیٹ بینک

سہیل آفریدی کی 27 ستمبر کو اسلام آباد مارچ کی کال، پی ٹی آئی میں اختلافات نمایاں

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات، پی پی اور پی ٹی آئی کے رابطے، کیا سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کا امکان ہے؟

اوورسیز کشمیری نظام سے مایوس نہیں، حکومت میں کوئی کردار دیا گیا تو ڈیلیور کرکے دکھاؤں گا، احسان دانش

سندھ مدرسۃ الاسلام: تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی فکری تربیت میں اہم کردار

ویڈیو

اوورسیز کشمیری نظام سے مایوس نہیں، حکومت میں کوئی کردار دیا گیا تو ڈیلیور کرکے دکھاؤں گا، احسان دانش

سندھ مدرسۃ الاسلام: تحریک پاکستان اور قائد اعظم کی فکری تربیت میں اہم کردار

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ وسیع تر علاقائی اتحاد میں بدل سکتا ہے، ایمبیسیڈر اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

13 برس بعد معلوم ہوا

کشمیر اب ایک ٹیسٹ کیس ہے

حویلی آزاد کشمیر میں لگنے والے نعرے