پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ انہیں عمران خان کی اسپتال منتقلی کے کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صبح کے وقت مجھے بتایا گیا کہ عمران خان کو میڈیکل چیک اپ کے لیے اسپتال لے جایا گیا تھا۔
مجھ سے کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا کہ ہم عمران خان کو ہسپتال لا رہے ہیں۔ جب صبح ہمیں پتا چلا تو پھر بتایا گیا کہ انہیں چیک اپ کے لیے لایا گیا ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی صحت کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے۔ یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ انہیں ہسپتال شفٹ کیا جائے اور فیملی کی… pic.twitter.com/ZP6C52YHxQ
— WE News (@WENewsPk) April 28, 2026
بیرسٹر گوہر نے کہاکہ ہمارا اس حوالے سے مؤقف واضح ہے کہ عمران خان کی صحت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور بشریٰ بی بی کی صحت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔
انہوں کہاکہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ذاتی معالج کی نگرانی میں ان کا علاج ہو، جبکہ اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کی اجازت بھی دی جائے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا، اور ملاقاتوں کی اجازت نہ دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر رات کے وقت انہیں اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایک انسانی اور قانونی حق ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ رات عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی آنکھ کا علاج مکمل کر لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ماہرینِ امراض چشم نے معائنہ کے بعد انہیں طبی طور پر مستحکم قرار دیا اور ڈسچارج کردیا گیا۔














