پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات وقاص اکرم شیخ کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی چوروں کا ٹولہ ہے اور ہر چیز میں حصہ مانگتی ہے، ان سے اتحاد ممکن نہیں ہے۔
پشاور میں وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وقاص اکرم شیخ نے موجودہ سیاسی صورتحال، 27 ستمبر کے لانگ مارچ اور پیپلز پارٹی سے ممکنہ اتحاد کی خبروں پر کھل کر بات کی۔
’چوروں سے اتحاد ممکن نہیں‘
وقاص اکرم شیخ نے پیپلز پارٹی کو چور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وفاق میں برسراقتدار جماعتوں کے ساتھ اتحاد ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ پر قبضہ کرکے حکومت بنائی ہے اور پیپلز پارٹی ہر چیز میں حصہ مانگ رہی ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے ممکنہ اتحاد کی خبروں کی مکمل تردید کرتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے عمران خان کی ہدایت بھی موجود ہے۔
مزید پڑھیں:شیخ وقاص اکرم کا عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پر شدید ردعمل، جیل حکام پر سنگین الزامات
وقاص شیخ نے مزید کہا کہ الیکشن کے وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کو اوقات یاد دلاتی ہیں اور الیکشن کے بعد اتحادی بن جاتی ہیں۔ ’گلگت الیکشن میں جو کچھ ہوا، سب کے سامنے ہے۔‘
’مولانا فضل الرحمان سے صوبائی سطح پر رابطے ہیں‘
شیخ وقاص نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمان سے کئی بار ملاقاتیں ہوئیں اور ہر ممکن تعاون اور مطالبات ماننے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا نے پہلے شوریٰ اجلاس تک وقت مانگ لیا، کافی تاخیر سے شوریٰ کا اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے اتحاد سے انکار کیا اور موقف اپنایا کہ ایشو ٹو ایشو بنیاد پر اتحاد کریں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ صوبائی سطح پر ابھی مولانا سے رابطہ برقرار ہے۔
’عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہو رہے‘
پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان نے اندرونی اختلافات اور لانگ مارچ پر بھی بات کی اور بتایا کہ اس وقت سہیل آفریدی لانگ مارچ کی مکمل تیاری کر رہے ہیں اور پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی بیک ڈور مذاکرات نہیں ہو رہے، جبکہ احتجاج کی مکمل تیاری جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب سے ہر بار ورکرز نکلتے ہیں اور اس بار بھی بڑی تعداد میں نکلیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں سختیاں زیادہ ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس بار پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں لوگ نکلیں گے۔
انہوں نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عمران خان کی صحت اور علاج تک رسائی اولین ترجیح ہے، جس پر سب متفق ہیں۔












