ایران کا ٹرمپ کے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ مسترد، آبی گزرگاہ بدستور بند رکھنے کا اعلان

جمعرات 13 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز پر ’مکمل کنٹرول‘ حاصل کر لیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ بدستور بند ہے اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک ایران کی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ امریکا کے پاس آبنائے ہرمز کا ’مکمل کنٹرول‘ ہے اور ان کے بقول ’میرا خیال ہے کہ ہم اسے برقرار رکھیں گے‘۔

ایران کی خلیجی آبنائے اتھارٹی (PGSA) نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم ہونے کے دعوے اور بار بار کی جانے والی پوسٹس زمینی حقیقت تبدیل نہیں کر سکتیں۔ اتھارٹی کے مطابق آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور ایران کی شرائط تسلیم ہونے تک اسے دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جون میں ہونے والے عبوری معاہدے میں توسیع کے حوالے سے بھی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ 60 روزہ مذاکراتی مدت 17 اگست کو ختم ہونے کے قریب ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کے حوالے سے واضح الفاظ میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کو اس اہم آبی راستے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ تاہم ایران نے اس دعوے کو براہِ راست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے کو کھولنے کا فیصلہ اس کی اپنی شرائط سے مشروط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرلیا، اسے برقرار رکھیں گے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس کی بندش یا آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کے باعث بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 7 سینٹ اضافے کے بعد 88.98 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 7 سینٹ اضافے کے بعد 83.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کے حوالے سے امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد تجارتی بحری جہازوں نے اپنا راستہ تبدیل کیا ہے۔ امریکی کمانڈ کے مطابق 12 اگست تک 59 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، 3 جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا جبکہ 2 جہازوں پر سوار ہو کر کارروائی کی گئی۔

امریکی فوجی ذرائع کے مطابق خطے میں امریکی بحری موجودگی برقرار ہے اور جنگی طیارے بھی کارروائیوں کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ایران پر دباؤ بڑھانے اور سمندری آمدورفت کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

اسی دوران ایک اور اہم پیشرفت میں امریکا اور عراق نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں موجود آخری امریکی فوجی دستے 30 ستمبر تک ملک سے واپس چلے جائیں گے۔ اس کے ساتھ عراق میں امریکی فوجی موجودگی کا وہ سلسلہ بھی ختم ہو جائے گا جو 2003 میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد شروع ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، آبنائے ہرمز جلد کھل جائےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

خطے میں کشیدگی کے ایک اور پہلو کے طور پر عمان کے ساحل کے قریب روسی تیل بردار جہاز سے پھیلنے والا تیل بھی تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ عمانی ماحولیاتی حکام کے مطابق تیل کا پھیلاؤ ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے اور تقریباً 25 میل کے علاقے کو خطرہ لاحق ہے۔ متعلقہ اداروں نے بتایا ہے کہ تیل کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم مون سون کی صورتحال کے باعث جہاز تک رسائی اور امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

یوں آبنائے ہرمز کا معاملہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک مرکزی نقطہ بن گیا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن آبنائے پر اپنے ’مکمل کنٹرول‘ کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب تہران بدستور اس کی بندش برقرار رکھنے اور اپنی شرائط تسلیم ہونے تک اسے نہ کھولنے پر قائم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp