ممتاز ناول نگار، افسانہ نگار اور سفرنامہ نگار سلمیٰ اعوان کو حال ہی میں اردو ادب کے شعبے میں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ وہ قیام پاکستان کے وقت صرف 3 برس کی تھیں اور ان کے ذہن میں آج بھی ہجرت کے وہ مناظر محفوظ ہیں۔
سلمیٰ اعوان کے مطابق وہ اپنے خاندان کے ہمراہ جالندھر سے لاہور ہجرت کرکے آئیں۔ وہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ ہجرت کے روز شدید گرمی تھی اور راستے میں بے پناہ رش تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے ماموں نے انہیں گاڑی کی کھڑکی سے باہر نکال کر محفوظ کیا۔
ان کے بقول پاکستان کا بننا ایک بہت بڑا معجزہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہجرت کے وقت ان کی دادی نے گھر چھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ ’دروازے کو تالا لگا دو، ہم چند دنوں تک واپس آ جائیں گے‘۔ لیکن وہ چند دن کبھی واپس آنے میں تبدیل نہ ہو سکے اور ایک خاندان ہمیشہ کے لیے نئے وطن میں آباد ہوگیا۔
سلمیٰ اعوان بتاتی ہیں کہ لاہور پہنچنے کے بعد ان کا خاندان صدر کے بازار میں رہائش پذیر ہوا۔ اس زمانے کی یادیں تازہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ خواتین شام کے وقت گھروں سے نکلتی تھیں اور لاہور کے تاریخی مقامات دیکھنے جایا کرتی تھیں۔
پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سلمیٰ اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قیام ایک غیر معمولی تاریخی معجزہ تھا اور آج پاکستان کی مسلح افواج نے بھی دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔
ان کی یہ یادیں صرف ایک ادیب کی ذاتی داستان نہیں بلکہ ہجرت کی اس نسل کی یادوں کا حصہ ہیں جس نے پاکستان کو بنتے ہوئے دیکھا اور نئے وطن میں اپنی زندگی ازسر نو شروع کی۔ ہجرت کی وہ دلگداز یادیں جانیے خبر میں شامل ویڈیو میں۔












