ٹرمپ کی پالیسیوں سے کتنے وفادار ہیں؟ امریکا نے نیٹو اتحادیوں سے جواب طلب کرلیا

ہفتہ 15 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا نے نیٹو اتحادی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے مستقبل کے حوالے سے ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے وابستگی اور حمایت جانچنے کا عمل شروع کردیا ہے، جبکہ فوجی اثاثوں میں ممکنہ کمی سے قبل اتحادیوں سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: نیٹو سربراہی اجلاس، صرف 48 گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری کا رخ بدل دیا

رپورٹ کے مطابق حال ہی میں نیٹو رکن ممالک کو بھیجی گئی ایک دستاویز میں امریکا نے اتحادی ممالک سے متعدد سوالات کیے ہیں، جن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور امریکی خارجہ پالیسی کے ساتھ کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔

امریکی پالیسی کی حمایت اور فوجی اڈوں سے متعلق سوالات

رپورٹ کے مطابق دستاویز میں نیٹو ممالک سے پوچھا گیا ہے کہ کیا انہوں نے عوامی سطح پر امریکی خارجہ پالیسی کی حمایت کی ہے؟

اس کے علاوہ یہ بھی جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کسی اتحادی ملک نے امریکی فوج کو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کے حوالے سے کوئی پابندیاں عائد کی ہیں یا نہیں۔

یہ سوالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا نیٹو کے دفاع کے لیے یورپ میں تعینات اپنے فوجی وسائل اور اثاثوں میں ممکنہ کمی پر غور کررہا ہے۔

امریکی دفاعی کمپنیوں سے خریداری بھی جائزے کا حصہ

دستاویز میں اتحادی ممالک کے دفاعی اخراجات اور امریکی دفاعی کمپنیوں کے ساتھ ان کے مالی و تجارتی روابط کو بھی جانچنے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکا یہ معلوم کرنا چاہتا ہے کہ متعلقہ ممالک امریکی دفاعی کمپنیوں سے سامان خریدنے پر کتنا خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آیا کسی ملک نے ایسی پابندیوں یا ضوابط کی عوامی سطح پر مخالفت کی ہے جو امریکی کمپنیوں کے ساتھ دفاعی معاہدوں میں رکاوٹ بنتے ہوں۔

’مضبوط، واضح اور خاموش‘ پالیسی سے ہم آہنگی کا سوال

دستاویز میں مجموعی طور پر اتحادی ممالک سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ آیا انہوں نے امریکی طرز حکمرانی اور دفاعی پالیسی کے اس تصور سے ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے جسے ’مضبوط، واضح اور خاموش‘ قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد نیٹو پر تنقید، کاغذی شیر قرار دیدیا

یہ اصطلاح امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے ایک بیان سے منسوب کی گئی ہے۔

یوں امریکا کی جانب سے تیار کردہ سوالنامہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ اس میں اتحادی ممالک کے سیاسی مؤقف، امریکی خارجہ پالیسی کی حمایت، فوجی اڈوں تک رسائی اور امریکی دفاعی صنعت کے ساتھ تجارتی روابط کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا تعمیراتی شعبے کی مزید ترقی کے لیے جامع ڈیولپمنٹ پیکیج پر غور

اسلام آباد کے 27 تھانوں کو 30 نئی گاڑیاں فراہم، ناکارہ گاڑیوں کے ساتھ جدید پولیسنگ کا تصور ناممکن ہے، محسن نقوی

اسرائیلیوں کے مسیحیوں پر حملے اور ہراسانی کے واقعات 3 گنا بڑھ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 100 ملین ڈالرز کے عوض ایلون مسک سے صلح کرلی

سیلاب متاثرہ علاقوں میں عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے، وزیراعظم کی این ڈی ایم اے کو ہدایت

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی