نیٹو سربراہی اجلاس، صرف 48 گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری کا رخ بدل دیا

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران صرف 48 گھنٹوں کے اندر عالمی سیاست اور سفارت کاری میں وہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا جس نے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر متوقع اور جارحانہ حکمتِ عملی کے باعث ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پوری دنیا ان کے وقت اور اشاروں پر چل رہی ہے۔

اجلاس کے آغاز پر جہاں نیٹو اتحادی شدید دباؤ کا شکار اور مارکیٹیں مندی کا شکار تھیں، وہیں اختتام پر تناؤ اچانک محبتوں اور اتحاد میں تبدیل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:پیدائشی شہریت کے معاملے پر سپریم کورٹ سے دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین واشنگٹن کی حمایت کا منتظر تھا جبکہ ایران سے متعلق صورتحال بھی اجلاس کے ایجنڈے پر غالب رہی۔

تاہم چند ہی گھنٹوں میں ماحول مکمل طور پر تبدیل ہوگیا اور وہی رہنما، جو ٹرمپ کی سخت تنقید سے پریشان تھے، ان کے ساتھ ملاقاتوں کو انتہائی کامیاب قرار دینے لگے۔

اہم عالمی معاملات کا محور ٹرمپ رہے

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ایران، روس، یوکرین جنگ، گرین لینڈ، یورپی سلامتی، نیٹو کے دفاعی اخراجات، اسپین کے فوجی بجٹ پر اختلافات اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات سمیت متعدد اہم عالمی معاملات زیر بحث آئے، لیکن ہر معاملے کا مرکز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی رہے۔

اجلاس سے قبل ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے نیٹو کے یورپی ارکان کو دفاعی اخراجات میں ناکافی اضافے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر ڈنمارک پر گرین لینڈ امریکا کے حوالے نہ کرنے پر اعتراض کیا جبکہ اسپین کو بھی دفاعی بجٹ کے مقررہ ہدف سے پیچھے رہنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ایران پر بیان سے منڈیاں ہل گئیں

اجلاس کے دوران اس وقت صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ مفاہمتی عمل اور جنگ بندی کے حوالے سے مزید پیش رفت میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کا مطالبہ دہرادیا، ڈنمارک کا دوٹوک انکار

اس اعلان کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں مندی جبکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ تاثر پیدا ہوا کہ اجلاس تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

چند گھنٹوں میں ماحول یکسر تبدیل

صورتحال نے غیر متوقع طور پر نیا رخ اختیار کیا اور بند کمرہ اجلاس کے بعد متعدد عالمی رہنماؤں نے بتایا کہ ٹرمپ نے تمام رہنماؤں کی بات توجہ سے سنی، مثبت رویہ اختیار کیا اور اجلاس خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔

بعد ازاں اپنی اختتامی پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے بھی اس تاثر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ’غیر معمولی محبت اور اتحاد‘ کا ماحول تھا۔ ان کے بقول، ’کمرے میں بے پناہ محبت تھی اور اتحاد حیران کن تھا۔‘

زیلنسکی کے لیے بھی مثبت پیش رفت

یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی نیٹو کی مزید حمایت حاصل کرنے کے لیے اجلاس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق روس کے خلاف یوکرین کی مزاحمت اور جنگی محاذ پر استحکام کے باعث ٹرمپ کی نظر میں زیلنسکی کی پوزیشن بہتر ہوئی ہے، جبکہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل نظام کی مشترکہ تیاری سے متعلق پیش رفت کی بھی امید پیدا ہوئی ہے۔

اردوان اور مارک روٹے نمایاں فاتح قرار

سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس کے نمایاں فاتحین میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان شامل رہے، جنہوں نے کامیاب میزبانی کے ذریعے اپنی سفارتی پوزیشن مستحکم کی اور امریکا سے ایف-35 لڑاکا طیاروں کی منظوری حاصل کرنے کے امکانات بھی روشن کیے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیٹا لیک: پے پال کے سابق سربراہ سمیت کئی اہم شخصیات کی خفیہ سوسائٹی بے نقاب، نیٹو جنرل اور اہم امریکی شخصیات شامل

نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے بھی اجلاس کے کامیاب کرداروں میں شامل رہے، جنہوں نے صدر ٹرمپ کے ساتھ مثبت تعلقات برقرار رکھتے ہوئے امریکا کو نیٹو کے ساتھ منسلک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اسپین اور ڈنمارک تنقید کے باوجود بچ نکلے

رپورٹ کے مطابق اسپین اور ڈنمارک، جنہیں اجلاس کے آغاز میں شدید امریکی تنقید کا سامنا تھا، اختتامی مرحلے میں کسی بڑی امریکی سرزنش سے بچ نکلے۔

پیوٹن کے لیے منفی اشارے، ایران کا مستقبل غیر واضح

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس اجلاس کے ممکنہ طور پر سب سے بڑے متاثرین میں شامل ہیں کیونکہ نیٹو نے دفاعی اتحاد کا مضبوط مظاہرہ کیا، دفاعی اخراجات بڑھانے پر اتفاق کیا اور یوکرین کو امریکا کی نسبتاً زیادہ مثبت حمایت حاصل ہوتی دکھائی دی۔

ایران کے حوالے سے تاہم صورتحال اب بھی غیر واضح ہے۔ ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے صرف اتنا کہا کہ ان کی موجودگی میں ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، تاہم انہوں نے آئندہ حکمت عملی کے بارے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

عالمی سفارت کاری کی نئی تصویر

تجزیہ کاروں کے مطابق نیٹو اجلاس نے یہ ثابت کر دیا کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ عالمی سفارت کاری کے مرکز میں ہوں تو صرف چند گھنٹوں میں عالمی سیاسی ماحول، اتحادیوں کے رویے اور مالیاتی منڈیوں کی سمت تبدیل ہو سکتی ہے، اگرچہ ایران، یوکرین اور نیٹو کے مستقبل سے متعلق بنیادی سوالات بدستور جواب طلب ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

خوابوں کا تعاقب مہنگا پڑ گیا، سوئٹزرلینڈ میں کروڑوں کی نوکری چھوڑنے والا نوجوان پچھتانے لگا

’شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن‘ یہ راز تنخواہ داروں کی سمجھ سے بالاتر ہے، رانا ثنا اللہ خان

سالگرہ کے دن موت کا تحفہ: پولیس اہلکار نے اہلیہ کو چوراہے پر قتل کر دیا

ماجد ستی قتل کیس: فرخ کھوکھر سمیت 3 ملزمان کو عمر قید کی سزا

صدر زرداری کی فرانس کے قومی دن پر صدر میکرون اور فرانسیسی عوام کو مبارکباد

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم