افغانستان کے شمال مشرقی صوبے بدخشان کے دارالحکومت فیض آباد میں طالبان انتظامیہ کے اہم عہدیدار، فیض آباد کے میئر حبیب الرحمان منصور (المعروف مولوی عبد الرحمان منصور) ایک مہلک بم دھماکے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب طالبان حکومت 15 اگست 2021ء کو امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہی تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق طالبان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان اور مقامی حکام کے مطابق، مولوی حبیب الرحمان منصور اپنی گاڑی میں سوار تھے کہ فیض آباد میں ان کی گاڑی کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں طالبان رہنما موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
مقامی افغان ذرائع اور میڈیا رپورٹس (بشمول ‘افغانستان انٹرنیشنل’) کے مطابق یہ دھماکا 13 اگست کی دوپہر کو فیض آباد کے علاقے ’شہرِ کہنہ‘ میں میونسپلٹی کی عمارت اور بدخشان کے گورنر ہاؤس سے محض 100 میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ دھماکے کے بعد گاڑی میں شدید آگ لگ گئی تھی جس سے میئر اور ان کے محافظ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں جمعہ خان فتح کا طالبان کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان، جھڑپوں میں کئی طالبان اہلکار ہلاک اور گرفتار
طالبان مخالف مسلح مزاحمتی گروپ ’نیشنل ریزسٹنس فرنٹ‘ (NRF) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے فیض آباد کے میئر عبد الرحمان منصور اور ان کے محافظوں کو اس کارروائی میں نشانہ بنایا۔
بدخشان میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کسی سینئر طالبان عہدیدار پر یہ دوسرا بڑا اور ٹارگٹڈ حملہ ہے۔ اس سے قبل بدخشان کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر ذبیح اللہ امیری کو موٹر سائیکل پر سوار 2 مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔
طالبان کے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے سینئر طالبان رہنماؤں پر اس طرح کے ٹارگٹڈ حملے کثرت سے نہیں ہوئے، لیکن گزشتہ دو تین برسوں کے دوران وقفے وقفے سے اہم شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جون 2023ء میں بدخشان کے نائب گورنر نثار احمد احمدی کار بم دھماکے میں مارے گئے تھے (جس کی ذمہ داری داعش خراسان نے قبول کی تھی)۔
یہ بھی پڑھیے بدخشان میں طالبان اور مخالف گروپ کے درمیان جھڑپیں، 5 ہلاک، 16 زخمی
مارچ 2023ء میں صوبہ بلخ کے گورنر اپنے دفتر میں بم دھماکے کا شکار ہوئے تھے۔
دسمبر 2024ء میں کابل میں خودکش دھماکے میں طالبان کے وزیرِ امورِ مہاجرین خلیل حقانی مارے گئے تھے۔
بدخشان میں کشیدگی اور اندرونی تصادم
یہ واقعہ بدخشان صوبے میں بڑھتی ہوئی امن و امان کی خراب صورتِ حال اور طالبان کے اندرونی گروہی اختلافات کے وقت سامنے آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے ارد گرد کے دنوں میں بدخشان کے ضلع نسی میں طالبان فورسز اور طالبان کے ہی ایک منحرف کمانڈر جمعہ خان فتح کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی جاری تھیں۔
طالبان انتظامیہ کے 5 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے سخت ترین سیکیورٹی کے باوجود شمال مشرقی افغانستان بالخصوص صوبہ بدخشان میں طالبان کے اعلیٰ حکام کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے خطے میں سیکیورٹی چیلنجز کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔














