جنگِ عظیم دوم کے بعد پیدا ہونے والے 64 ہزار سے زائد افراد کے جائزے میں ابتدائی زندگی میں کم چینی اور ڈیمنشیا کے کم خطرے کے درمیان تعلق سامنے آیا
ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ حمل کے دوران اور زندگی کے ابتدائی ایک سے دو برس میں کم چینی کا استعمال کئی دہائیوں بعد ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی سے منسلک ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق ابتدائی زندگی میں چینی کی کم مقدار کے سامنے آنے والے افراد میں بعد کی عمر میں ڈیمنشیا کا خطرہ 23 فیصد تک کم پایا گیا۔
تحقیق جرنل ’نیورولوجی‘ میں شائع ہوئی، جس میں برطانیہ کے 64 ہزار سے زائد افراد کے صحت کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا۔ یہ افراد دوسری جنگِ عظیم کے دوران اور جنگ کے بعد کے عرصے میں پیدا ہوئے تھے۔ محققین نے 1953 میں برطانیہ میں چینی کی راشن بندی ختم ہونے سے پہلے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد میں ڈیمنشیا کے خطرے کا موازنہ کیا۔
Hundreds of thousands of Australians are about to receive letters in the mail warning about their dementia risk. It's part of a major new push to stop or delay the disease decades before symptoms strike. pic.twitter.com/mNm0Lrr6dR
— 7NEWS Sydney (@7NewsSydney) August 14, 2026
تحقیق کے مطابق جن افراد کو پیدائش سے قبل اور زندگی کے پہلے سال تک نسبتاً کم چینی میسر آئی، ان میں ڈیمنشیا کا خطرہ زیادہ چینی استعمال کرنے والے افراد کے مقابلے میں 21 فیصد کم تھا۔ جن افراد میں چینی کی محدود مقدار کا سلسلہ دو سال کی عمر تک جاری رہا، ان میں یہ خطرہ 23 فیصد کم پایا گیا۔
محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ ابتدائی زندگی میں کم چینی کے سامنے آنے والے افراد میں ڈیمنشیا کی تشخیص اوسطاً 2.6 سال بعد ہوئی۔
ہانگ کانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف جیازن ژینگ نے کہا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ زندگی کے ابتدائی ترین مراحل میں چینی کی مقدار محدود رکھنے کے دماغی صحت پر طویل مدتی فوائد ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فٹبالرز کو ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض کے خدشات کیوں رہتے ہیں؟ بچاؤ کا طریقہ سامنے آگیا
تاہم ماہرین نے تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ فوڈ از میڈیسن انسٹی ٹیوٹ، ٹفٹس یونیورسٹی کے ڈائریکٹر داریوش مظفرین، جو تحقیق میں شامل نہیں تھے، نے کہا کہ تحقیق نے ایک اہم سوال ضرور اٹھایا ہے، تاہم اس کے نتائج اس بات کا قائل ثبوت فراہم نہیں کرتے کہ صرف چینی کی کم مقدار ہی ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی کی وجہ ہے۔
ان کے مطابق جنگ کے دوران پیدا ہونے والے افراد اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والے افراد کے درمیان خوراک، کیلوریز کی مجموعی مقدار اور غذائیت سمیت کئی دیگر عوامل بھی مختلف تھے، اس لیے یہ تعین کرنا مشکل ہے کہ دونوں گروہوں میں ڈیمنشیا کے خطرے کے فرق کی وجہ صرف چینی کا استعمال تھا۔
ماہر نے کہا کہ حاملہ خواتین کے لیے مجموعی طور پر صحت بخش غذا کا استعمال پہلے کی طرح اہم ہے۔ ان کے مطابق پھل، سبزیاں، پھلیاں، گری دار میوے، بیج، ثابت اناج، خمیر شدہ دودھ سے بنی غذائیں اور مچھلی جیسی کم پراسیس شدہ غذاؤں کو ترجیح دینی چاہیے، جبکہ چینی، نشاستے اور نمک کی زیادہ مقدار رکھنے والی انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں کا استعمال محدود کرنا بہتر ہے۔
Two neurologists who run the largest brain health outreach program in America just exposed how to slash dementia risk by 60% ( without meds or supplements)
Your brain will thank you for reading this:
(1/11) A 25 minute walk reduces Alzheimer's risk by 40% pic.twitter.com/VKLN7pXXv6
— LongevityLab (@LxngevityLab) May 5, 2026
محققین نے بھی واضح کیا کہ تحقیق میں صرف ابتدائی زندگی میں چینی کے استعمال اور بعد کی عمر میں ڈیمنشیا کے خطرے کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بچپن میں چینی کم کرنے سے براہِ راست ڈیمنشیا سے بچاؤ ممکن ہے۔
تحقیق کی ایک اہم حد یہ بھی تھی کہ محققین نے تاریخی چینی راشن بندی کو افراد کے حقیقی چینی استعمال کے متبادل کے طور پر استعمال کیا۔ اس لیے وہ دونوں گروہوں کے درمیان موجود دیگر معاشرتی، غذائی اور صحت سے متعلق اختلافات کے اثرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکے۔ چنانچہ کم عمری میں کم چینی کے استعمال اور ڈیمنشیا کے کم خطرے کے درمیان براہِ راست سبب اور نتیجے کا تعلق ابھی ثابت نہیں ہوا۔













