اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں ہزاروں تارکین وطن کی آمد کے بعد متعدی امراض پھیلنے لگے ہیں، جہاں معدے و آنتوں کی سوزش، خارش اور جلدی انفیکشن کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ طبی ماہرین نے گنجان آبادی اور صفائی کی ناقص صورتحال کے باعث مزید بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
اسپین کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ مینجمنٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں سیوٹا پہنچنے والے تارکین وطن میں گیسٹرواینٹرائٹس کے کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ خارش اور امپیٹیگو کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ تاہم ادارے نے سیوٹا کے طبی نظام کے مکمل طور پر مفلوج ہونے کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔ تپِ دق کے پھیلاؤ کی اطلاعات بھی غلط قرار دی گئی ہیں اور مشتبہ مریض کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسپین پہنچنے کا خواب جان لے گیا، مراکش سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ فٹبالر سمندر میں ڈوب گئی
مقامی طبی عملے کے مطابق ہزاروں تارکین وطن کھلے مقامات پر رہ رہے ہیں جہاں پینے کے صاف پانی، بیت الخلا اور نہانے کی سہولیات ناکافی ہیں، جس سے بیماریوں کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 30 اور 31 جولائی کو 72 ہزار سے زائد تارکین وطن مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔ بیشتر کو واپس بھیج دیا گیا، تاہم مقامی حکام کے مطابق اب بھی تقریباً 11 ہزار تارکین وطن وہاں موجود ہیں۔
اس بڑے پیمانے پر آمد نے اسپین کے استقبالی مراکز، طبی سہولیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔












