صرف 25 سال کی عمر میں برطانوی محقق ڈاکٹر ایوان فلپس نے فٹبال میں سر سے گیند کھیلنے (ہیڈنگ) کے حوالے سے ایک ایسی اہم دریافت کی ہے جس نے کھیلوں کی دنیا اور طبی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ ان کی تحقیق مستقبل میں فٹبالرز کو ڈیمنشیا اور دیگر دماغی امراض سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں نئی تاریخ رقم: 40 سال سے زائد عمر کے اسٹارز کی ریکارڈ تعداد ایکشن میں ہوگی

لاؤفبرو یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ایوان فلپس نے کوویڈ 19 لاک ڈاؤن کے دوران اس تحقیق کا آغاز کیا جب وہ فٹبالرز میں بڑھتے ہوئے اعصابی امراض اور ڈیمنشیا کے خطرات سے متعلق سائنسی مطالعات کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہوں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ فٹبال کو سر سے کھیلنے کے دوران دماغ کے اندر کیا ہوتا ہے۔
5 سالہ تحقیق کے بعد ڈاکٹر فلپس اور ان کی ٹیم نے دریافت کیا کہ فٹبال کو ہیڈ کرنے کے دوران کھوپڑی کے اندر انتہائی تیز رفتار ’پریشر ویوز‘ یا دباؤ کی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جو دماغ کے مخصوص حصوں تک پہنچتی ہیں اور طویل مدت میں نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
ڈاکٹر فلپس کے مطابق فٹبالرز کو عموماً شدید چوٹیں یا کنکشن کم لگتی ہیں لیکن ہزاروں مرتبہ سر سے گیند کھیلنے کے نتیجے میں ہونے والے معمولی اثرات وقت کے ساتھ جمع ہو کر دماغی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فٹبالرز کے دماغ کے اگلے حصے (فرنٹل ریجن) میں مخصوص نوعیت کا نقصان دیکھا گیا ہے جس کے باعث انہوں نے پریشر ویوز کے نظریے پر تحقیق شروع کی۔
مزید پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ 2026: سائنسدان 8 برسوں سے کونسی غیر معمولی چیز تیار کر رہے ہیں؟
اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے ایک جدید مصنوعی انسانی سر تیار کیا جس میں حساس پریشر سینسرز نصب کیے گئے تھے جبکہ مختلف رفتار سے فٹبال مارنے کے لیے ایک خصوصی ’بال کینن‘ استعمال کی گئی۔
تحقیق کے دوران 20 مختلف اقسام کی فٹبالز کا تجربہ کیا گیا جن میں روایتی چمڑے کی گیندوں سے لے کر جدید فٹبالز تک شامل تھیں۔ 
حیران کن طور پر نتائج سے معلوم ہوا کہ پرانی چمڑے کی گیندیں جنہیں طویل عرصے سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا تھا درحقیقت بعض جدید فٹبالز کے مقابلے میں کہیں کم توانائی دماغ تک منتقل کرتی ہیں۔ بعض جدید گیندوں میں دماغ تک توانائی کی منتقلی چمڑے کی گیندوں کے مقابلے میں 55 گنا زیادہ دیکھی گئی۔
ڈاکٹر فلپس کے مطابق اس فرق کی بنیادی وجہ گیندوں کی ساخت اور ان میں استعمال ہونے والے مختلف تہہ دار مواد ہیں جو انہیں زیادہ سخت بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے اس عمل کو مثال کے ذریعے یوں سمجھایا کہ جیسے کسی میز پر ضرب لگانے سے اس پر رکھے پانی میں لہریں پیدا ہوتی ہیں اسی طرح فٹبال سر سے ٹکرانے پر کھوپڑی کے اندر دباؤ کی لہریں پیدا کرتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ پریشر ویوز اس نوعیت کی ہوتی ہیں جو فوجی ہتھیاروں کے دھماکوں سے متاثرہ افراد میں دماغی چوٹوں کا سبب بنتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ورلڈ کپ 2026: میدان بچانے کے لیے فیفا نے چوپائے ’محافظوں‘ کی خدمات حاصل کر لیں
ڈاکٹر فلپس کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ تحقیق کچھ سابق فٹبالرز کے لیے شاید دیر سے سامنے آئی ہے لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ مستقبل کی نسلوں کے لیے اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ فٹبال جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند کھیل ہے تاہم کھیل کو محفوظ بنانے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فلپس اب ماہرینِ اعصاب کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ دماغ کو نقصان پہنچانے والی توانائی کی محفوظ حد کیا ہونی چاہیے جبکہ وہ مستقبل میں ایسی نئی فٹبال تیار کرنے کے خواہاں ہیں جو کھیل کی خصوصیات برقرار رکھتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے زیادہ محفوظ ہو۔
یہ بھی پڑھیے: فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے لیے کوالیفائی نہ کرسکنے کے باوجود پاکستان اس میگا عالمی مقابلے کے لیے ناگزیر کیوں ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر مستقبل میں ایک ایسی محفوظ فٹبال تیار ہو جائے جس سے دماغ پر پڑنے والے منفی اثرات کم ہو جائیں تو یہ ان کی تحقیق کی سب سے بڑی کامیابی اور فٹبال کی دنیا میں ایک حقیقی تبدیلی ثابت ہوگی۔














