بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کشمیریوں کی جانب سے یومِ سیاہ منایا گیا۔
مظفرآباد میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کی کال پر برہان وانی چوک میں احتجاجی دھرنا اور جلسہ ہوا، جس کے بعد شرکا نے ریلی نکال کر بھارت کے اقدامات کے خلاف احتجاج کیا اور حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے لگائے۔
مظفرآباد میں منعقدہ احتجاجی دھرنے اور جلسے میں خواتین، طلبہ و طالبات، معمر افراد، سول سوسائٹی کے نمائندوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی یوم جمہوریہ پر کشمیریوں کا یوم سیاہ، احتجاجی ریلیاں، جدوجہد آزادی جاری رکھنے کا عزم
مظاہرین نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں پرجوش نعرے لگائے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اظہار کیا۔
احتجاجی ریلی، بھارت کے خلاف نعرے بازی
احتجاجی جلسے کے اختتام پر شرکا نے ریلی نکالی، جس کے دوران بھارتی اقدامات کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ ریلی کے شرکا نے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دینے کا مطالبہ کیا۔
مقررین کا حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام اپنے سیاسی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
مزید پڑھیں:بھارت کا یوم جمہوریہ: کشمیری آج پوری دنیا میں یوم سیاہ منا رہے ہیں
مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے اور کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
کشمیری حلقوں کی جانب سے بھارت کے یومِ آزادی کو یومِ سیاہ کے طور پر منانے کا مقصد مسئلہ کشمیر کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانا اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت میں آواز بلند کرنا ہے۔
مظفرآباد میں ہونے والے احتجاج کے شرکا نے بھی اسی تناظر میں بھارتی پالیسیوں اور اقدامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیری عوام کی خواہشات اور حقِ خودارادیت کو بنیادی اہمیت دی جائے۔













