سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے پروسٹیٹ کینسر کے مزید پھیلنے اور بیماری کے باعث شدید تکلیف میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے بتایا کہ کینسر ان کے والد کی ہڈیوں سے آگے بھی پھیل چکا ہے اور بیماری انتہائی تکلیف دہ اور کمزور کر دینے والی ہے۔
ہنٹر بائیڈن نے کہا کہ ان کے والد کو کینسر کے باعث شدید جسمانی تکلیف کا سامنا ہے اور بیماری نے ان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
Hunter Biden: The only thing that I say about my dad, about his health right now, is I wish he would complain more because it’s not good.
The cancer has spread and metastasized into his bones and further. It’s very painful pic.twitter.com/7tYT3l3zTG
— Republicans against Trump (@RpsAgainstTrump) August 8, 2026
83 سالہ جو بائیڈن کے ترجمان نے ہفتے کے روز ہنٹر بائیڈن کے انٹرویو پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
واضح رہے کہ جو بائیڈن نے مئی 2025 میں، وائٹ ہاؤس چھوڑنے کے تقریباً 4 ماہ بعد، بتایا تھا کہ انہیں پروسٹیٹ کینسر کی ایک جارحانہ قسم کی تشخیص ہوئی ہے، جو اس وقت بھی ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا تھا۔
بعد ازاں اکتوبر 2025 میں بائیڈن کے ترجمان نے بتایا تھا کہ وہ کینسر کے علاج کے لیے ریڈی ایشن تھراپی اور ہارمون تھراپی کرا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی ننھے بچے کے پیچھے دوڑ، جوبائیڈن پر طنز، حاضرین کے زوردار قہقہے اور بھرپور تالیاں
جو بائیڈن 2020 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے وقت امریکی تاریخ کے معمر ترین صدر منتخب ہوئے تھے۔ ان کی صدارت کے دوران ان کی جسمانی صحت اور ذہنی صلاحیت کے حوالے سے بھی متعدد مرتبہ سوالات اٹھائے گئے تھے۔
بائیڈن نے جون میں شکاگو میں سابق صدر براک اوباما کی صدارتی لائبریری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی تھی۔ وہ 2009 سے 2017 تک براک اوباما کے نائب صدر بھی رہے۔













