525 برس قبل 16 اگست 1501 کو نشاۃ ثانیہ کے عظیم اطالوی مصور اور مجسمہ ساز مائیکل اینجلو کو فلورنس کے لیے ’ڈیوڈ‘ کا مجسمہ تراشنے کا کمیشن دیا گیا، جو بعد ازاں دنیا کے عظیم ترین مجسموں میں شمار ہوا۔
مزید پڑھیں:اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں
مائیکل اینجلو نے سنگِ مرمر کے ایک بڑے ٹکڑے سے قریباً 17 فٹ بلند مجسمہ تراشا۔ یہ مجسمہ بائبل کی معروف شخصیت ڈیوڈ کو دکھاتا ہے، جو طاقتور جالوت کے مقابلے کے لیے تیار کھڑا ہے۔
مائیکل اینجلو نے قریباً 3 سال کی محنت کے بعد 1504 میں یہ شاہکار مکمل کیا۔ مجسمے کی غیر معمولی جسمانی ساخت، تفصیلات اور انسانی جذبات کی عکاسی نے اسے نشاۃ ثانیہ کے فن کا لازوال نمونہ بنا دیا۔
Today is a monumental one in history as it’s the anniversary of Michelangelo being commissioned to carve the statue of David!
If you’ve seen it in person, then you’re aware of the overwhelming awe of being in its presence. How could any statue be better than this?
Well, that…
— Today in History (@TodayinHistory) August 16, 2026
فنِ تاریخ کے معروف مؤرخ جورجیو وازاری نے مائیکل اینجلو کے ’ڈیوڈ‘ کے بارے میں لکھا کہ جس شخص نے یہ شاہکار دیکھ لیا، اسے اپنے دور یا کسی اور زمانے کے کسی دوسرے فن پارے کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔
’ڈیوڈ‘ ابتدا میں فلورنس کے سٹی ہال کے سامنے نصب کیا گیا، تاہم بعد میں اسے محفوظ رکھنے کے لیے گیلریا ڈیل اکیڈیمیا منتقل کردیا گیا، جہاں آج دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں سیاح اسے دیکھنے پہنچتے ہیں۔
مزید پڑھیں:سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک
مائیکل اینجلو کا ’ڈیوڈ‘ صرف ایک مجسمہ نہیں بلکہ نشاۃ ثانیہ کے فن، انسانی جسم کے حسن، قوت اور عزم کی علامت بن چکا ہے اور 5 صدیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود فنِ مجسمہ سازی کے عظیم ترین شاہکاروں میں اس کا مقام برقرار ہے۔














