وفاقی آئینی عدالت کا تاریخی فیصلہ: اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، نجی موبائل کمپنی کی اپیلیں منظور

پیر 17 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایک بڑا قانونی و مالیاتی ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 168 کے تحت حاصل شدہ ٹیکس کریڈٹ ایک الگ اور مسلمہ قانونی حق ہے، جس کے تحت فائلنگ اور کٹوتی پر ملنے والے ٹیکس کریڈٹ کے ذریعے سپر ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ کی جا سکتی ہے۔

مقدمے کا پس منظر

تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے نجی موبائل کمپنی (زونگ) کو سپر ٹیکس کی ادائیگی کے لیے نوٹسز جاری کیے تھے۔ زونگ نے اپنے حاصل شدہ ٹیکس کریڈٹ کی سپر ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹمنٹ کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، تاہم ہائیکورٹ نے کمپنی کی درخواست خارج کر دی تھی۔ بعد ازاں موبائل کمپنی نے اس فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں اپیل دائر کی، جسے عدالت نے اب باقاعدہ منظور کر لیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے اہم نکات

تفصیلی فیصلے میں عدالت نے ایف بی آر اور ہائیکورٹ کے موقف سے اختلاف کرتے ہوئے اہم قانونی نکات واضح کیے اور قرار دیا کہ ٹیکس دہندہ کو حاصل شدہ ٹیکس کریڈٹ کی ایڈجسٹمنٹ سے روکنا اور اسے محض ریفنڈ (Refund) کے لمبے عمل کی طرف دھکیلنا قانون کی اصل منشا اور روح کے منافی ہے۔

عدالت نے کہا کہ مالیاتی اور ٹیکس قوانین کی تعبیر و تشریح کرتے وقت ہمیشہ ٹیکس دہندہ کے فائدے اور اس کی کاروباری سہولت کو مدِنظر رکھا جانا چاہیے۔

وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاری کردہ نوٹس کے جواب میں نجی موبائل کمپنی (زونگ) کے ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کلیم کا قانون کے مطابق دوبارہ جائز لے کر منصفانہ فیصلہ کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp