بھارتی ریاست مہاراشٹرا نے بالی ووڈ کے معروف اداکاروں شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ایک ایسے برانڈ کی تشہیر سے روکنے کی ہدایت کردی ہے جس کا تعلق ممنوعہ سپاری کے مرکب پان مصالحہ سے بتایا جاتا ہے۔
مہاراشٹرا کے محکمہ خوراک و ادویات نے تینوں اداکاروں کو جاری نوٹس میں کہا ہے کہ وہ ومَل برانڈ کی الائچی کے اشتہارات میں نظر آرہے ہیں، تاہم یہ برانڈ بڑی حد تک ممنوعہ پان مصالحہ مصنوعات سے وابستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ سپراسٹارز کے اجتماع میں شاہ رخ خان کی غیر موجودگی نے سوالات کھڑے کردیے
ریاستی حکام نے تینوں اداکاروں سے 15 دن کے اندر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ برانڈ کے نام اور شناخت کے اس استعمال سے ممنوعہ مصنوعات کے بارے میں صارفین میں شناخت اور مقبولیت برقرار رہنے یا بڑھنے کا امکان ہے۔
مہاراشٹرا حکام نے شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سماجی رابطوں کے ذرائع سے متعلقہ اشتہارات ہٹا دیں، آئندہ ان اشتہارات کی تشہیر یا نشر کرنے میں تعاون نہ کریں اور کمپنی کے ساتھ اپنے تشہیری معاہدوں کی تفصیلات فراہم کریں۔
تینوں اداکاروں کے نمائندوں نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے کی جانے والی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، جبکہ برانڈ کی مالک کمپنی نے بھی کوئی مؤقف پیش نہیں کیا۔
بھارت میں پان مصالحہ کی مارکیٹ کا حجم گزشتہ سال تقریباً 5 ارب ڈالر لگایا گیا تھا۔ ماہرین صحت کے مطابق پان مصالحہ، خصوصاً تمباکو کے ساتھ استعمال ہونے کی صورت میں، منہ کی سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور منہ کے سرطان کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنکی کون ہے اور اجے دیوگن کے لیے امتحان کیسے ثابت ہوسکتی ہے؟
یہ کارروائی مہاراشٹرا میں خوراک کے معیار اور حفظان صحت کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ ریاست کے نئے سربراہ برائے خوراک کی جانب سے حفظان صحت کے ناقص انتظامات پر متعدد مقامی اور غیر ملکی ریسٹورنٹس کے خلاف بھی کارروائی کی جا چکی ہے۔
بھارت میں اس نوعیت کے بالواسطہ تشہیری اشتہارات پر پہلے بھی اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ 2024 میں شراب بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے دیگر مصنوعات کے ذریعے اپنے برانڈز کی تشہیر کے خلاف شکایات کے بعد بھارتی حکومت نے بالواسطہ تشہیر کے حوالے سے مزید سخت قواعد بنانے پر کام شروع کیا تھا، تاہم یہ قواعد تاحال حتمی نہیں کیے گئے۔














