ورلڈ کانٹیکسٹ اور ملٹی نیٹ پاکستان نے حقیقی دنیا کے بصری ڈیٹا کے لیے محفوظ اور جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر کی فراہمی کے سلسلے میں شراکت داری کرلی۔
اس شراکت داری کے تحت ورلڈ کانٹیکسٹ مقامی صنعتی شعبوں سے حقیقی دنیا کا بصری ڈیٹا جمع کرے گا، جبکہ ملٹی نیٹ پاکستان اس ڈیٹا کی سیکیورٹی اور ترسیل کے لیے فائبر نیٹ ورک اور دیگر ڈیٹا انفراسٹرکچر فراہم کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وائب کوڈنگ سے اے آئی ایجنٹس تک: پاکستان میں مصنوعی ذہانت نوجوانوں کے لیے کیسے نئے مواقع پیدا کررہی ہے؟
ورلڈ کانٹیکسٹ کے چیف ایگزیکٹو شیر دل علی خان کے مطابق کمپنی پاکستان کی صنعتی اور موجودہ بنیادی سہولیات کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک میں اب تک کے سب سے بڑے کمپیوٹر وژن ڈیٹا ذخیرے تیار کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیٹا حساس اور منتقلی کے اعتبار سے پیچیدہ ہوتا ہے، اس لیے اسے سائنسی اصولوں کے مطابق محفوظ اور منتقل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق امریکا اور دیگر ممالک میں مصنوعی ذہانت اور جدید ذہانت پر کام کرنے والی تجربہ گاہوں کو اپنے ڈیٹا سپلائی نظام میں اعلیٰ معیار کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے ملٹی نیٹ پاکستان کمپنی کی سرگرمیوں کے لیے موزوں شراکت دار ہے۔
ملٹی نیٹ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو عدنان زیدی نے کہا کہ نئی نسل کے ذہین نظام اعلیٰ معیار کے ڈیٹا، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور بڑے پیمانے پر ڈیٹا کو محفوظ انداز میں منتقل اور منظم کرنے کی صلاحیت پر انحصار کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل نے پاکستانی صارفین کو مصنوعی ذہانت کے دور میں محفوظ رہنے کے لیے تجاویز اور ٹولز فراہم کر دیے
انہوں نے کہا کہ ورلڈ کانٹیکسٹ کے ساتھ شراکت داری پاکستان کو ابھرتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی ویلیو چین سے جوڑنے کی جانب اہم قدم ہے۔
ملٹی نیٹ کے مطابق کمپنی ورلڈ کانٹیکسٹ کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے، منتقل کرنے اور عالمی روبوٹکس و مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں اور تحقیقی اداروں تک پہنچانے کے لیے بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گی۔
اس شراکت داری کو پاکستان کے حقیقی صنعتی ڈیٹا کو عالمی روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے جوڑنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔














